ہارٹ آف ڈارکنس، مبصر ،سمیرا حمید

0
775

ناول: ہارٹ آف ڈارکنس(Heart of Darkness )

ناول نگار: جوزف کانریڈ

مبصر، سمیرا حمید
استحصالی معاشرے اور استعماری طاقتوں کے کمزور خطوں پر قابض ہونے کی روداد پر بہت سا مواد مل جاتا ہے لیکن کانریڈ کا یہ ناول اس لیے بھی منفرد ہے کہ یہ ایک خاص خطے کے بارے میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں ایسی طاقتوں کے اثرورسوخ کی داستانوں میں مشترکہ مفادات کی تصویر کشی کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن اور فطرت کی تاریکی اور ہولناکیوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
یہ ناول 1899 کو شائع ہوا۔ یہ ایک ملاح مارلو کی کے سفر کی داستان ہے جسے ایک بیلجئین تجارتی کمپنی نے اندرون افریقہ سے اپنے ایک معتمد اور با اثر مگر بیمار آفیسر کو واپس لانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ کہانی فلیش بیک میں چلتی ہے ۔ اس پلاٹ کے ذریعے کانریڈ نے بڑی مہارت سے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور انسانی نفسیاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس ناول کی خصوصیات اس کا عنوان، کردار نگاری اور علامتی پہلو ہیں۔
کہانی کا عنوان ظاہری طور پہ اندرونی افریقہ کی جغرافیائی حالات اور مقامی قبائلی حالات کے عین مطابق ہے جو تمدنی دنیا سے کٹے ہونے کے باعث فطرتا جنگلی،وحشی اور آدم خور ہیں۔ یہ خطہ گھنے جنگلات، جنگلی جانوروں کی آماجگاہ ہے ۔بقول مارلو
” دریائے کانگو سے گزرتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آپ زمین کے ابتدائی دور کی طرف سفر کر رہے ہوں جہاں بڑے بڑے درختوں کی بادشاہت ہے۔ جن سے روشنی نہیں گزر سکتی۔”
مقامی قبائل کی تہذیب سے عاری طرز زندگی اور گھنے جنگلات کی سیاہی کی وجہ سے یہ عنوان بہت موزوں ہے۔ یاد رہے مشہور سیاح ہنری مارٹن سٹینلے نے براعظم افریقہ کو دا ڈارک کونٹینٹ کہا ہے ۔مگر کانریڈ جیسے مبصر کے لئے یہ ناکافی تھا۔ چنانچہ جہاں ایک ہی عنوان کے تحت وہ غیر تمدنی ماحول کی ظلمت کو دکھا رہا ہے وہیں پہ تہذیب یافتہ انسان کی طاقت کے نشے میں اخلاقی گراوٹ اور انسانی فطرت کے تاریک پہلوؤں کو بھی سامنے رکھتا ہے۔ ہارٹ آف ڈارکنس کو اگر
” ڈارکنس آف ہارٹ ” پڑھیں تو یہ پہلو واضع ہو جاتا ہے کہ انسانی ذہن اور فطرت گراوٹ پر آئیں تو کانگو جیسا خطہ بھی تاریکی میں ان کے آگے کچھ بھی نہیں۔
اس ناول میں اردگرد کے ماحول کے انسانی جسم، فطرت اور نفسیات پر گہرے اثرات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے جہاں ہمیں سیاہ فام مقامی آدم خور افراد بھوک کے باوجود ایک مردہ شخص کو کھانے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ تہذیب یافتہ معاشرے کے ہی دو انسان کرٹز اور اس کی منگیتر دو انتہاوں کے نام ہیں۔
ہارٹ آف ڈارکنس ایک علامتی ناول ہے جس میں سے اگر علامتوں کو نکال دیا جائے تو شاید ناول باقی نہ رہے۔ مارلو کا بدھا کی طرز پر بیٹھ کر سفر کی روداد سنانا اس کی باریک بینی سے مشاہدے اور اس پر غوروفکر کی علامت ہے۔ کانگو کے اندرونی سفر میں جا بجا گھنے جنگلات، دلدلی علاقے اور غیر معمولی خاموشی صورتحال کے الجھاو کو ظاہر کرتا۔مگر مچھ لالچ و طمع اور دریائی گھوڑے انھیں افسروں کی سستی اور کاہلی کی علامت ہیں۔ ہر سیشن پہ رکتے ہوئے مارلو وہاں کے مینجرز کے متعلق علامتوں اور استعاروں کے ذریعے ان کی فطرت بیان کرتا ہے۔ جبکہ سیاہ فام مقامی افراد محنت اور کارکردگی کی علامت ہیں جو کام سے نہیں تھکتے۔ ان کی سیاہ گردن میں سفید رسیاں استعماریت کی علامت ہے۔ ان میں قوت برداشت اور احساس سفید فام سے زیادہ ہے جب مارلو کے کریو کے ایک مردہ شخص کو وہ بھوک سے نڈھال ہونے کے باوجود نہی کھاتے۔ کرٹز کے جھونپڑے کی ٹوٹی ہوئی باڑ اس کی تہذیب کی زنجیروں کو توڑ کر فطری آزادی کی طرف جانے کی علامت ہے۔اس کی بنائی ہوئی پینٹگ جس میں ایک عورت آنکھوں پہ سیاہ پٹی باندھے ہاتھ میں موم بتی لیے ہے، علم و تمدن کے علمبرداروں کے خود اس علم سے بے بہرہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ مارلو بیلجیئم کے ہیڈ کوارٹر کے بارے میں بھی یہ رائے رکھتا ہے۔اس ناول میں بار بار ہاتھی دانت کا ذکر سفید فاموں کے لالچ اور حرص کی طرف اشارہ ہے۔
کہانی کے دو مرکزی کردار مارلو Marlow اور کرٹز Kurtz ہیں۔ مارلو ایک منطقی انسان کے طور پر مشاہدہ کرنے اور سوالوں کے جواب تلاش کرنے کا عادی ہے جبکہ کرٹز اپنی کمپنی کا ذہین، سب سے زیادہ ہاتھی دانت یورپ بھیجنے اور منافع دینے والا آفیسر ہے جو نہایت پڑھا لکھا،جغرافیہ اور تاریخ میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھا شاعر اور پینٹر بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسرے آفیسرز اس سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر کرٹز ایک عرصے سے تہذیب یافتہ معاشرے سے کٹ کر قدرت کے درمیان رہنے کی وجہ سے خالص وحشیانہ فطرت اپنا چکا ہے۔مقامی قبائل اسے اپنا لیڈر مانتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں اس لئے وہ اسے لے جانے کے خلاف ہو گئے۔ کانریڈ بھی ڈبلیو فیلڈنگ کی طرح اس بات پہ یقین رکھتا ہے کہ انسان جبلی اور فطری طور پہ برا ہے اور برائی میں کشش محسوس کرتا ہے۔ کرٹز اس ماحول کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ اب وہ واپس نہیں جانا چاہتا۔ مارلو بہرحال کرٹز سے متاثر ہوتا ہے۔
اس ناول میں نسوانی کرداروں کو ثانوی حیثیت میں دکھایا گیا ہے جنکا کام صرف گھر گرہستی ہے۔وہ بہت سے حقائق کے بارے میں علم نہیں رکھتیں۔ مارلو کی آنٹی اور کرٹز کی منگیتر ایسے ہی دو کردار ہیں۔ کرٹز کی منگیتر ایک سادہ لوح عورت ہے جس کے نزدیک کرٹز نہ صرف آخری دم تک اس کا وفادار تھا بلکہ ایک نہایت اور شریف النفس انسان تھا جس کے بعد وہ کبھی کسی سے محبت نہیں کر سکے گی۔ جبکہ کرٹز کی مقامی محبوبہ کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ خالص انسانی فطرت کی خوبصورت مثال ہے۔
کانریڈ کا ناول ہارٹ آف ڈارکنس ایک سنجیدہ اور بصیرت سے بھرپور ناول ہے جسے سبھی کو پڑھنا چاہیے۔ اس ناول میں زبان اور الفاظ کا چناو بہت بہترین ہے۔
یاد رہے کانریڈ نے خود بھی 1890 میں افریقہ کا دورہ کیا جو انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوا۔۔۔ وہاں پہ یورپ کے قبضے اور مقامی قبائل کے استحصال کی واضع تصویر یہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کانریڈ نے 1904 میں نوسٹرومو کے نام سے شہرہ آفاق ناول لکھا جو انگریزی زبان کی سو بہترین کتابوں میں سینتالیسویں نمبر پر آتا ہے۔ اسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔ اس ناول میں مرکزی کردار نوسٹرومو کے ذریعے استعماری طاقتوں کی منصوبہ بندی، حرس و طمع کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مثالیت اور مادی مفادات کی جنگ کو بھی دکھایا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY