چودہویں قسط
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
“ یہ ہماری سواریاں اور ساز و سامان اتارنے کی جگہ ہے
اور یہ ہمارے خون بہنے کا مقام ہے “
اور اس کے بعدامام وقت نے حکم دیا
کہ سازوسامان یہیں اتار دیا جائے
اور ۔۔ پھر
یہ مختصر سا قافلہ کربلا کے میدان میں اتر گیا
کربلا دراصل قریوں اور زمینی ٹکڑوں کا مجموعہ ہے
یوں تو عراق کا سب سے مشہور شہر نجف ہے
جو بغداد سے 160 کلومیٹر دور ہے
اور ۔۔ شہر کوفہ کے قریب ایک اونچے علاقے میں ہے
نجف کا لفظی مطلب ہی “اونچی جگہ “ ہے
شہر نجف میں
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا روضہ مبارک ہے
ان کی بنائی ہوئی ایک قدیم مسجد ہے
دنیا کا سب سے بڑا مسلم قبرستان “ وادی السلام “ ہے
یہاں قدیم ترین مدرسہ “حوزہ علمیہ نجف “ ہے
عراق کا دوسرا مشہور شہر “ کربلا “ ہے
جو بغداد سے 100 کلومیٹر دور
جنوب مغرب میں صوبہ الکربلا میں واقع ہے
کربلا دراصل قریوں اور زمینی ٹکڑوں کا مجموعہ ہے
نینوا ، غاضریہ ، اور شطر فرات ، کربلا کے متبادل نام نہیں
بلکہ وہ جگہیں ہیں جو باہمی اتصال سے “ کربلا “ کہلایئں
”نینوا“ ایک گاؤں تھا جس کے پہلو میں ’غاضریہ‘ تھا
اس جگہ ”سفینہ“ نامی ایک گاؤں تھا
اور یہیں پر ایک قطعہ افتادہ اراضی کربلا کے نام سے تھا
جو اب موجودہ شہر کربلا کا مشرقی و جنوبی حصہ ہے
اسی سے متصل ”عقر بابل“ نام کا ایک قریہ تھا
جو غاضریات کے شمال ومفرب میں واقع تھا
یہ قریہ ۔۔۔ دریائے فرات کے کنارے آباد تھا
دریائے فرات جسے “ علقمہ “ بھی کہتے ہیں
بین النہرین (میسوپوٹیمیا) کو تشکیل دینےوالی
دو نہروں میں سے ایک ہے
دوسری نہر کا نام دجلہ ہے
نہرفرات
تقریباً دو ہزار 780 کلومیٹر (ایک ہزار730میل) طویل ہے
ترکی سے نکلنے والی فرات
جس کا ایک حصہ
کھائیوں اور گھاٹیوں میں سے ہوتا ہوا
جنوب مشرقی شام مٰیں رقہ کے مقام سے عراق میں داخل ہوتا ہے
اس کا دوسرا حصہ
جو جنوبی پہلو میں ہے
وہ ”بصرہ“ سے ”ہیئت“ تک ہے
اس کے اس کنارے کو ”طف“ کہاجاتا ہے جس میں کربلا واقع تھا
یوں دریائے فرات کا براہ راست تعلق
کربلا کی زمین سے نہیں تھا
بلکہ وہ ”حلہ“ اور ”میب“ سے گزر کر
کوفہ کے بیرونی حصہ کو سیراب کرتا تھا
لیکن اس کی ایک شاخ
مقام رضوانیہ کے پاس سے الگ ہو کر
کربلا کے شمالی اور مشرقی ریگستانوں سے ہوتی ہوئی
اس مقام سے گزرتی تھی
جہاں اب
علمدار حسینی(ع) حضرت ابو الفضل العباس علمدار(ع)کا روضہ مبارک ہے
یہ ہے مختصر تعارف اس سرزمین کا
جو اس زمانے میں
گرم ریت کے ٹیلوں کھنڈرات لق و دق صحرا اور جنگلو ں کا نمونہ تھی
لیکن ۔۔
امام حسین علیہ السلام کے خون نے
اس زمین میں
وہ تاثیر پیدا کردی
کہ
اسے خاک شفا بنادیا
اسے سجدہ گاہ آفاق بنا دیا
کربلا کو
حسین علیہ السلام نے
کربلائے معلی بنا دیا
جاری ہے













