حُسین شناسی کا سفر۔34۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
995

قسط چونتیس

نویں محرم جمعرات کی صبح
امام حسین علیہ السلام نے حضرت عباس علیہ السلام کو
پھر کنواں کھودنے کا حکم دیا لیکن پانی بر آمد نہ ہوا
تھوڑی دیر کے بعد
امام حسین ع نے بچوں کی حالت کے پیشِ نظر
پھر عباس ع سے کنواں کھودنے کی فرمائش کی
آپ ع نے سعی بلیغ شروع کردی
جب بچوں نے کنواں کھدتا ہوا دیکھا تو سب کوزے لے کر آپہنچے
ابھی پانی نکلنے نہ پایا تھا
کہ
دشمنوں نے آکر کنویئں کو بند کر دیا
دشمنوں کو دیکھ کر بچے خیموں میں جا چھپے
پھر تھوڑی دیر کے بعد
حضرت عباس (ع) نے کنواں کھودا وہ بھی بند کر دیا گیا
یہاں تک کہ چار کنویں کھودے اور پانی حاصل نہ کر سکے
اس کے بعد
امام حسین (ع) ایک ناقہ پر سوار ہوکر دشمن کے قریب گئے
اور دشمنوں سے اپنا تعارف کرایا ۔۔۔۔۔ لیکن کچھ نہ بنا
مورخین لکھتے ہیں
کہ
نویں محرم کو شمر بن ذی الجوشن کو فہ واپس گیا
شمر تابعین اور قبیلۂ ہوازن کے رؤساء میں سے تھا
ابتدا میں اصحاب علی میں شامل تھا
لیکن بعد میں
امام علی اور آپ کے خاندان کے کینہ پرور دشمنوں کے زمرے میں شامل ہوا
اس کا باپ
فتح مکہ کے بعد
مسلمان ہوا اور اس کی ماں بدنام عورتوں میں سے تھی
یہ وہی شمر تھا
جس نے مسلم بن عقیل کی شہادت کے اسباب مہیا کیے
اور اس وقت کربلا میں جنگ کی تیاری کر رہا تھا
شمر لعین نے عمر ابن سعد کی شکایت کرکے
ابن زیاد سے ایک سخت حکم حاصل کیا
جس کا مقصد یہ تھا
کہ
اگرحسین (ع) بیعت نہیں کرتے
تو
انھیں قتل کرکے ان کی لاش پرگھوڑے دوڑادے
اور اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے
تو
شمر بن ذی الجوشن کو چار ج دے دے
ہم نے اسے حکم تعمیل حکم یزید دے دیا ہے
ابن زیاد کا حکم پاتے ہی ابن سعد تعمیل پر تیار ہو گیا
اسی نویں تاریخ کو
شمر نے حضرت عباس(ع) اور ان کے بھائیوں کو امان کی پیش کش کی
انھوں نے بڑی دلیری سے اسے ٹھکرادیا
اسی نویں کی شام آنے سے پہلے
شمر کی تحریک سے ابن سعد نے حملے کاحکم دے دیا
امام حسین (ع) خیمہ میں تشریف فرما تھے
آپ ع کو
حضرت زینب(ع) پھر حضرت عباس (ع) نے دشمن کے آنے کی اطلاع دی
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
کہ
مجھ پر ابھی غنودگی طاری ہو گئی تھی
میں نے
آنحضرت صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا
انھوں نے فرمایا
کہ
” انک تروح غدا حسین ”
تم کل میرے پاس پہنچ جاؤ گے .
جناب زینب رونے لگیں
اور امام حسین (ع) نے حضرت عباس (ع) سے فرمایا
کہ
بھیا تم جاکر ان دشمنوں سے ایک شب کی مہلت لے لو
تاکہ
اس آخری رات
ہم اچھی طرح نماز پڑھ لیں
دعا مانگ لیں
اور توبہ استغفار کر لیں
اﷲ تعالیٰ خوب جانتا ہے
کہ
مجھے نماز، تلاوت اور دعا و استغفار سے بڑا قلبی تعلق ہے
حضرت عباس(ع) تشریف لے گئے
ابن سعد کے دستہ نے یہ بات مان لی
اور لڑائی ایک شب کے لیے ملتوی ہو گئی
قافلہ حسینی عیہ السلام نے رات اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور مناجات میں بسر کی
حضرت امام حسین علیہ السلام نے
اپنے رفقاء کوجمع کیا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY