حُسین شناسی کا سفر۔37۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
887

قسط سینتیس

شب عاشور
دھیرے دھیرے صبح میں بدل رہی تھی
حضرت امام صادق سے منقول ہے
کہ
دس ( 10) محرم بروز جمعہ کی صبح
شبیہہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضر ت علی اکبر 18سال کے کڑیل جوان کی اذان سے طلوع ہوئی
امام حسین علیہ السلام نے
اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھائی
اور نماز کے بعد وصیت فرمائی
“ آج علی بن حسین زین العابدین کے سوا تم سب شہید ہو جاوگے
پس
خدا سے ڈرنا ۔۔۔۔۔ صبر کرنا
تاکہ
سعادت پر فائز اور دنیا کی مشقت اور مذلت سے نجات پاؤ
امام حسین علیہ السلام نے
اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہما کو وصیت فرمائی
“ اے میری بہن
میری جان
حلم اور بردباری اختیار کریں ، اپنے اوپر شیطان کو قبضہ نہ دیں
اللہ کی تقدیر پر صبر کریں
اور فرمایا
اگر یہ لوگ مجھ کو آرام سے رہنے دیتے
تو
میں ہلاکت کو اختیار نہ کرتا
حضرت زینب سلام اللہ نے کہا
“ اس بات سے تو ہمارا دل اور زیادہ زخمی ہوتا ہے
کہ
آپ کے لئے اب کوئی چارہ کار نہیں ہے
موت ہر طرف رقصاں ہے
اور آپ ہم کو
مخالفین اور منافقین کے درمیان
بے یارو مددگار
تنہا مسافرت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں“
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
اے بہن !
خدا سے ڈرو اور اللہ کی تقدیر پر راضی رہو
تمام زمین والوں نے ایک دن مرنا ہے
اور آسمان والے بھی باقی نہیں رہیں گے
سوائے اللہ کے ہر چیز کو فنا ہے
وہ سب کو مارے گا اور مارنے کے بعد پھر زندہ کرے گا
صرف وہ باقی رہنے میں منفرد ہے
میرے بھائی اور ماں
جو مجھ سے بہتر تھے وہ شہید ہوگئے
اور
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جو تمام مخلوق سے افضل تھے وہ بھی دنیا میں نہ رہے
اور دارالفنا سے دارالبقاء میں سکونت فرما گئے
اے میری معزز بہن !
میں آپ کو قسم دیتا ہوں
کہ
جب میں اہل جفا کی طرف سے عالم بقا میں رحلت کر جاؤں
تو
گریبان چاک نہ کرنا
چہرے پر خراشیں نہ ڈالنا ۔۔۔ بس صبر کرنا
امام حسین علیہ السلام نے
اپنی صاحبزادی
حضرت سکینہ سلم اللہ علیہما کو وصیت فرمائی
اے بیٹی !
ہر شخص کا خدا مددگار ہوتا ہے
دنیا اور آخرت میں خدا کی رحمت تم سے جدا نہ ہوگی
اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا ۔۔۔ صبر کو اختیار کرنا
عنقریب دنیائے فانی ختم ہو جائے گی
آخرت کی ابدی نعمتوں کو زوال نہیں
امام حسین علیہ السلام نے
کئی بار
اہل بیت رسالت اور خاندان اہل طہارت کو وصیت فرمائی
اور ان کو صبر اور ضبط کا حکم فرمایا
اور اللہ کے غیر متناہی اجر و ثواب کے ساتھ تسلی دی
اور فرمایا
کہ
اپنے سر پر چادر رکھو
رنج و مصیبت کے لشکر کے لئے تیار ہو جاو
جان لو
کہ
اللہ تمہارا حامی اور حافظ ہے
وہ تم کو دشمنوں کے شر سے نجات دے گا
اور تمہاری آخرت اچھی کرے گا
تمہارے دشمنوں کو مختلف بلاؤں میں مبتلا کرے گا
اور تم کو
مصیبت اور بلاوں کے عوض
آخرت میں عزت سے نوازے گا
بس
صبر کا دامن نہ چھوڑنا اور بےصبری کے کلام زبان پر نہ لانا
ورنہ تمہارے اجر و ثواب میں کمی ہوگی
جب امام حسین علیہ السلام کی نظر
دشمن کی وسیع فوج پر پڑی
تو
ہاتھوں کو دعا کے لئے بلند کیا اور فرمایا
“ خدایا ہر تکلیف میں تو ہی میرا بھروسہ ہے
ہر مشکل میں تم ہی ہو میری امید ہو
ہر وہ امر جو مجھ پر آیا
اس میں تو ہی میرا بھروسہ اور سرمایہ رہا ہے
کتنے ایسے غم تھے
جو دل کو کمزور کر رہے تھے
جن میں تدبیر کم پڑ جاتی رہی
دوست ساتھ چھوڑ دیتے رہے
دشمن طعنہ زنی کرتے رہے
میں اس غم کس ہمراہ تیری بارگاہ میں آیا
اور تجھ سے اس کا شکوہ کیا
اسی رغبت ۔۔اسی امید وآس کے ساتھ
جو تیرے سوا کسی سے نہیں تھی
اور
تو نے
مجھے اس رنج اور ملال سے نجات دی
اور تو نے ہی میرے لیے راہ ہموار کی
پس ہر نعمت کے ولی تم ہو
اور نیکی اور خوبی کے صاحب تم ہو
اور ہر مقصود کی انتہا تم ہو“
تاریخ لکھتی ہے
کربلا پہنچتے ہی
امام حسین علیہ السلام نے
دو بار خط لکھے
پہلی بار
انہوں نے
اپنے بھائی جنابِ محمدِ حنفیہ بن علی اور بنی ہاشم کے افراد کو لکھا
اس خط میں
امام حسین (ع) نے لکھا
کہ
“ یہ دنیا عارضی اور قابلِ زوال چیز ہے
اور اخروی زندگی مستقل، ناقابلِ زوال ہے
اور بے حساب عظمت کی مالک ہے
اور عقل مند
کسی صورت
عارضی چیز کو مستقل پر فوقیت نہیں دے سکتا“
دوسری بار
دوسرا خط
مدینہ میں موجود
اپنے بھائی حنفیہ بن علی اور دیگر رشتے داروں کو لکھا
جو صرف دو سطروں پر مشتمل تھا
اور وہ خط اس موقع پر لکھا
جب
مسلم بن عقیل (ع) شہید ہو چکے تھے
بہت سے محب قتل کئے جا چکے تھے
کوفیوں کی اکثریت بے وفائی کر چکی تھی
اور اب
امام حسین علیہ السلام
اس بیاباں میں دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے
یہ خط
امامِ محمدِ باقر (ع) سے نقل ہوا ہے
امام کے شدید مصائب کا عکاس ہے
خط کا مضمون کچھ اس طرح سے ہے
” بسم الل الرحمن الرحيم
حسین ابنِ علی کی طرف سے
محمد ابنِ علی
اور ان کے ساتھ رہنے والے بنی ھاشم کے نام
” گویا دنیا تھی ہی نہیں اور آخرت ہی سب کچھ ہے
والسلام ”
بحکم امام حسین علیہ السلام
بعض اصحاب خیموں پر پہرہ دے رہے تھے
تاکہ
دشمن نزدیک نہ ہو پائے
امام علیہ السلام نے خیام کی طرف نظر دوڑائی
جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY