قسط باون
زہیر بن قین کی شہادت کے بعد
یکے بعد دیگرے
ابوثمامہ صائدی ، شوذب ، حجاج بن مسروق جعفی
بشیر بن عمرو حضرمی ، ضرغامہ بن مالک تغلبی
عابس بن ابی شبیب شاکری ، سیف بن مالک عبدی
شہید ہو گئے
بَشیر بن عَمْرو حَضرَمی کِندی
ایسے شہدائے کربلا میں سے ہیں
جنہیں
روز عاشورخبر ملی تھی
کہ
ری کے سرحدی علاقہ میں
ان کے بیٹے کو اسیر کر لیا گیا ہے
تو
امام حسین علیہ السلام نے ان سے کہا
کہ
وہ اپنے فرزند کی رہائی کے لیے چلے جائیں
لیکن
انہوں نے
امام عالی مقام کو تنہا چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا تھا
سلام آپ پر
اے بَشیر بن عَمْرو حَضرَمی کِندی
خدا پاک
ایسی وفاداری
ایسا اخلاص
ہم سب کو عطا فرمائے
شہداء کربلا میں
حجاج بن مسروق جعفی بھی تھے
آپ حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب با وفا میں سے تھے
جب
حضرت امام حسین علیہ السلام نے
مدینہ سے مکہ کی جانب سفر شروع کیا تھا
تو
حجاج نے کوفہ سے مکہ کی طرف سفر شروع کیا تھا
اور مکہ پہنچتے ہی
امام حسین علیہ السلام کے قافلے میں شامل ہو گئے
مکہ سے کربلا کے راستے میں
حجاج بن مسروق جعفی کو
امام حسین علیہ السلام کا مؤذن ہونے کا شرف ملا
روز عاشور
حجاج بن مسروق جعفی نے
امام عالی مقام سے
جہاد کی اجازت لی اور میدان کربلا گئے
جہاد کیا
اور
کچھ دیر کے بعد خون میں نہائے
امام کی خدمت میں واپس پہنچے
اوران کی شان اقدس میں کہا
” ہدایت یافتہ
اور
ہدایت کرنے والے پر
میں اپنی جان نثار کر دوں گا
آج آپ کی جد سے ملاقات کروں گا
پھر آپ کے والد علی ع سے ملاقات کروں گا
جنہیں ہم رسول کا وصی جانتے ہیں “
امام عالی مقام نے
جواب میں ارشاد میں فرمایا
“ تمہارے بعد
میں بھی
ان سے ملاقات کروں گا”
حجاج بن مسروق جعفی
واپس میدان کربلا گئے اور شہید ہو گئے
سلام ہوآپ پر
اے وعدہ نبھانے والے
سلام
حجاج بن مسروق جعفی
اے جانثار کرنے والے
السَّلَامُ عَلَی الْحَجَّاجِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْجُعْفِی
جاری ہے













