قسط 72
گیارہ محرم ۔۔۔۔
سادات کی اسیری شروع ہو گئی
بے سرو سامان قافلہ کربلا سے براستہ کوفے شام کو چلا
زوال کے بعد
عمر سعد نے حکم دیا
کہ
شہزادیوں کو مہ حضرت زینب اور حضرت کلثوم کے
بے مقنہ و چادر اسیر کر کے بے پالان اونٹوں پر سوار کیا جائے
جناب سجاد ع کے گلے میں طوق ڈالا جا ئے
چناچہ عصمت ماب شہزادویو کو سوار کرنے کے لئے اونٹ بٹھا دیے گئے
تو
حکم دیا گیا
کہ
آؤ اور اونٹوں پر سوار ہو جاؤ –
عمر ابن سعد نے کوچ کا حکم دیا ہے
جناب زینب سلام الل علیہا نے سنا تو فرمایا
اے ابن سعد !
اللہ تیرا منہ سیاہ کرے
توان ملعونوں کو حکم دے رہا ہے
کہ
ہم رسول اللہ کی امانت شہزادیوں کو سوار کرایئں
ان کو کہہ دے
کہ
یہ ہٹ جائیں
ہم خود ہی ایک دوسرے کو سوار کر لیں گے
بی بی زینب و کلثوم آگے بڑھیں اور تمام بیبیوں کو سوار کیا
یہاں تک
کہ
بی بی زینب س اکیلی رہ گئیں
بی بی نے ایک مرتبہ دائیں طرف دیکھا اور ایک مرتبہ بائیں طرف
بی بی کو جناب سجاد علیہ السلام کے علاوہ کوئی نظر نہ آیا
جو کہ مریض تھے
پس شہزادی قریب آئیں اور فرمایا
سجاد آؤ میں تم کو سوار کر دوں
مگر
امام علیہ السّلام نے فرمایا ۔۔۔ مجھے رہنے دیجیے
شہزادی زینب اپنی سواری کے قریب آئیں
اور دائیں بائیں دیکھا
گرم ریت پر سر بریدہ لاشے جو بے گور و کفن پڑے ہیں
شہزادی کی آہ نکلی اور فرمایا
ہائے غربت ، ہائے بردار جان ، ہائے حسین ، ہائے عباس
ہائے
میرے ہاشمی جوان بھائی حسین
آپ کے بعد زینب بے سہارا ہو گئی
آج مجھے کوئی سوار کراونے والا نظر نہیں آ رہا
انہیں اپنی مدینے سے روانگی کا وقت یاد آ گیا
کہ
کس شان سے عباس و علی اکبر نے سوار کیا تھا
مگر آج سیدہ زہرا کی بیٹی
تن تنہا کھڑی ہے اور کوئی سوار کرانے والا نہیں
یہ سن کر شہزادیوں میں کہرام و ماتم برپا ہو گیا
شہزادی زینب س
جب اپنے بھائی کے جسد اطہر کے پاس سے گزریں
تو گریہ میں پکارا
یامحمدا!
وامحمدا!
آسمان کے فرشتے آپ پر درود و سلام بھیجتے ہیں
یہ حسین ع دشت میں ہے
جس کا بدن خون میں غلطاں
اور اس کے اعضائے بدن جدا ہیں !
اے محمد!
آپکی بیٹیاں اسیر ہیں
اور ان کی مقتول ذریت کو ہوا چھو رہی ہے“
گریہ و ماتم سے پوری فضا سوگوار تھی
جاری ہے













