شہباز شریف کی جیل سپرنٹنڈنٹ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

0
814

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے جیل میں سہولیات نہ دینے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔ عدالت نے کل وکلا کو بحث کے لیے طلب کر لیا۔

درخواست گزار شہباز شریف نے موقف اپنایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود جیل میں سہولیات نہیں دی گئیں، عدالت نے بیڈ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، کمر درد کی تکلیف میں مبتلا ہوں، جیل میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

خیال رہے عدالت نے جیل حکام کو اپوزیشن لیڈر و صدر مسلم لیگ نون شہباز شریف کو بیڈ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز و دیگر پر فرد جرم عائد کر دی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔

احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے فرد جرم عائد کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب گواہان کو طلب کرلیا۔ شہباز شریف نے کہا میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی ہوں، میرے خلاف جھوٹے الزامات عائد کیے گے، نیب کے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں، مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا میں سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں، سیاسی مخالفین میرے خلاف سازش کر رہے ہیں، میرے اوپر جس جس کیس میں فرد جرم عائد کی گئی وہ تمام کیسز بے بنیاد ہیں، میں نے ہسپتال بنائے۔

…………………………………

احتساب عدالت کی جانب سے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کا تحریری حکم جاری کردیا گیا ہے۔

احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ ریفرنس سے متعلق سماعت احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے کی تھی۔

احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن کی جانب سے کی گئی گزشتہ سماعت پر چارصفحات پر مشتمل آرڈر جاری کیا گیا ہے۔

عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری حکم کے مطابق عدالت نے شہبازشریف کی اہلیہ نصرت شہباز کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

احتساب عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ نصرت شہباز کی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیدادوں کاریکارڈ ڈی جی نیب آئندہ سماعت پر جمع کروائیں اور نصرت شہباز کے اشتہاری ہونے کے اشتہارات مختلف جگہوں پر آویزاں کیے جائیں۔

عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے جیل میں میڈیکل کی سہولیات کی شکایت کی تھی، شہباز شریف آئندہ سماعت پر سہولیات کی عدم فراہمی پر تحریری درخواست عدالت میں جمع کروائیں۔

احتساب عدالت کے تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سلیمان شہباز، رابعہ عمران سمیت تین ملزمان جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے شہباز شریف سمیت 10 ملزمان کو وعدہ معاف گواہ کی کاپیاں فراہم کیے جانے کا بھی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY