حُسین شناسی کا سفر۔86۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
539

قسط 86

کوفہ جو گہرے خواب میں ڈوبا ہوا تھا
خطبوں کی گونج سے جاگ اٹھا
شام جو جاں کنی کی آخری سانسیں لے رہا تھا
زنجیروں کی جھنکار سے جاگ چکا
پورے عالم اسلام میں
حیات و بیداری کی ایک ہلچل شروع ہوئی
اور
اموی حکومت کے بام و در لرزنے لگے
امام سجاد علیہ السلام نے
کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک
ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے
جہاں قیام حسین علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے
لوگوں کو آگاہ فرمایا
وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے
اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا
مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا
امام زین العابدین علیہ السلام کا موثر ترین خطبہ
آپ نے دمشق کی مسجد میں دیا
امام زین العابدین علیہ السلام نے
اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعدفرمایا
اے لوگو
! خداوند متعال نے ہم خاندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو
چھ اوصاف سے نوازا اور سات خصوصیات کی بنا پر
ہمیں دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی
ہمارے چھ اوصاف
علم، حلم، بخشش و سخاوت، فصاحت اور شجاعت
اور مومنین کے دل میں ودیعت کردہ محبت سے عبارت ہیں
اور ہمیں سات خصوصیات کی بنا پر برتری عطا فرمائی
خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
امیر المومنین امام علی علیہ السلام ، جعفر طیار ، حمزہ سیدالشہداء
پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو سبط حسن و حسین
سیدہ بتول اور مہدی آخر (علیہم السلام) ہم سے ہیں
لوگو!
جو مجھے جانتا ہے ، سو جانتا ہے
اور جو
مجھے نہیں جانتا
میں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کروا کر اپنا تعارف کراتا ہوں
لوگو!
میں مکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں
میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں
جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے پلو سے اٹھا کر اپنے مقام پر نصب کیا
میں بہترین عالم کا بیٹا ہوں
میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں
میں اس کا بیٹا ہوں
جو براق پر سوار ہوئے
میں اس کا بیٹا ہوں
جس نے ایک ہی شب میں
مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی
میں اس کا بیٹا ہوں
جس کو جیرائیل سدرۃالمنتہی تک لے گئے
میں اس کا بیٹا ہوں
جو زیادہ قریب ہوئے
اور زیادہ قریب ہوئے تو وہ تھے دو کمان یا اس سے کم تر فاصلے پر
میں اس کا بیٹا ہوں
جس نے آسمان کے فرشتوں کے ساتھ نماز ادا کی
میں اس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بیٹا ہوں
جس پر خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھیجی
میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی مرتضی علیہ السلام کا بیٹا ہوں
میں اس کا بیٹا ہوں
جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے
اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رکاب میں
دو تلواروں اور دو نیزوں سے جہاد کیا
دوبار ہجرت کی اور دوبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی
بدر و حنین میں کفار کے خلاف شجاعانہ جہاد کیا اور لمحہ بھر کفر نہیں برتا
میں اس کا بیٹا ہوں
جو مومنین میں سب سے زیادہ نیک و صالح
انبیاء علیہم السلام کا وارث
ملحدین کا قلع قمع کرنے والا، مسلمانوں کا امیر
مجاہدوں کا روشن چراغ ، عبادت کرنے والوں کی زینت
خوف خدا سے گریہ و بکاء کرنے والوں کا افتخار ہے
میں سب سے زیادہ صبر و استقامت کرنے والے اور آل یسین
یعنی
آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں
سب زیادہ قیام و عبادت کرنے والے کا بیٹا ہوں
میں اس کا بیٹا ہوں
جس کو
جبرائیل علیہ السلام کی تائید و حمایت اور میکائیل علیہ السلام کی مدد و نصرت حاصل تھی
میں مسلمانوں کی ناموس کے محافظ و پاسدار کا بیٹا ہوں
میں اس کا بیٹا ہوں
جو مارقین (جنگ نہروان میں خوارج) ، ناکثین (پیمان شکنوں اور اہل جمل)
اور
قاسطین (صفین میں معاویہ اور اس کے انصار) کے خلاف لڑا اور اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا
میں تمام قریش کے بہترین فرد کا بیٹا ہو
میں اولین مومن کا بیٹا ہوں
جس نے
خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت پر لبیک کہا
اور
سابقین میں سب سے اول، متجاوزین اور جارحین کو توڑ کر رکھنے والا تھا
مشرکین کو نیست و نابود کرنے والا تھا
منافقین کے لئے خدا کے تیروں میں سے ایک تیر کی مانند تھا
خدا کے بندوں کے لئے زبان حکمت، دین خدا کی مدد کرنے والا
اس کے امور کا ولی، حکمت خدا کا بوستان اور علم الہی کا حامل
وہ جوانمرد، سخی، حسین چہرے کے مالک
تمام نیکیوں اور اچھائیوں کے جامع، سید و سرور، پاک و طاہر
بزرگوار، ابطحی، اللہ کی مشیت پر بہت زیادہ راضی
دشواریوں میں پیش قدم، صابر و با استقامت، ہمیشہ روزہ رکھنے والے
ہر آلودگی سے پاک ، بہت زیادہ نمازگزار اور بہت زیادہ قیام کرنے والے تھے
انھوں نے
دشمنان اسلام کی کمر توڑ دی، کفر کی جماعتوں کا شیرازہ بکھیر دیا
وہ قلب ثابت و قوی اور محکم ارادے اور عزم راسخ کے مالک تھے
وہ شیر دلاور کی طرح
جب جنگ کے دوران نیزے آپس میں ٹکراتے
اور جب فریقین کی اگلی صفیں قریب ہوجاتیں
تو
کفار کو چکی کی مانند پیس دیتے تھے اور آندھی کی مانند منتشر کردیتے تھے
وہ حجاز کے شیر اور عراق کے بزرگ اور آقا و سرور ہیں
امام سجاد علیہ السلام نے
ہر موقع پر
تحریک عاشورا کو زندہ رکھنے کی کامیاب کوشش کی
جب کبھی پانی لایا جاتا
تو
آپ علیہ السلام اپنے والد ماجد کو یاد کرتے
اور جب چچا ابوالفضل علیہ السلام کے بچوں کو دیکھتے تو آنسو بہاتے
جب کوئی بکرا یا دنبہ ذبح کرتا
تو
آپ سجاد علیہ السلام پوچھتے
کیا تم نے اس کو پانی پلایا ہے؟
جب وہ ہاں میں جواب دیتے
تو
آپ علیہ السلام فرماتے
ہائے
دشمنوں نے میرے بابا حسین علیہ السلام کو پیاسا شہید کیا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY