کرونا کی نئی قسم کے زیادہ مہلک ہونے کے شواہد نہیں ملے: عالمی ادارۂ صحت

0
624

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہونے والے کرونا وائرس کی نئی شکل کے نمونوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ کرونا کی عام لہر سے ہٹ کر کوئی زیادہ مہلک یا زیادہ شدید قسم ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اب بھی لوگ جو بہترین کام کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے رہیں۔

جنیوا کے صدر دفتر میں ادارے کی معمول کی بریفنگ میں عالمی ادارہٗ صحت کے عہدے داروں نے کہا کہ وہ کرونا کی اقسام سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں اور ان کو برطانیہ سے ایسی رپورٹیں بھی مل رہی ہیں کہ وہاں کرونا کی نئی قسم زیادہ آسانی سے ایک سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینم گیبراسس نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ سائنس دانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کس طرح سے یہ جینیاتی تبدیلیاں کرونا وائرس کے طریقۂ کار کو متاثر کر سکتی ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وائرس وقت کے ساتھ شکلیں تبدیل کرتے ہیں۔

ٹیڈروس نے کہا کہ اس پھیلاؤ کو جلد از جلد روکنا ہی سب سے زیادہ مددگار ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول “ہم اس وائرس کو جتنا پھیلنے دیں گے اسے خود کو تبدیل کرنے کا زیادہ موقع ملے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتوں اور عوام الناس کو چاہیے کہ وہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

عالمی ادارۂ صحت کی تیکنیکی امور کی سربراہ ماریا وین کرخوو نے بھی اس موقع پر کہا کہ جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں موجود کرونا وائرس کے نمونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں وائرس کی نئی لہر میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ ایک وقت میں سامنے آئی ہے۔وین کرخوو نے مزید کہا کہ جو چیز تبدیل نہیں ہوئی وہ ہے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا طریقہ کار۔ لہٰذا آج بھی سماجی فاصلہ رکھنا اس وائرس سے بچاؤ کا بہترین راستہ ہے۔

انہوں نے کہا “وائرس ان لوگوں میں زیادہ پھیلتا ہے جو دوسروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔ آج بھی اس کا پھیلاؤ کا راستہ وہی ہے۔ مفصل تحقیق جاری ہے۔ اور اگر کرونا سے متعلق کوئی بھی تبدیلی آتی ہے تو ہم آپ کو آگاہ کریں گے۔”

اسی اثنا میں ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا ہے کہ اس وقت تک اس بارے میں شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ وائرس اپنی شدت میں تبدیلی لائے گا۔

اُں کے بقول تشخیص اور ویکسین کے معیار پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

بائیو این ٹیک کے شریک بانی نے کہا ہے کہ ‘قوی امکان’ یہ ہے کہ ان کی تیار کردہ ویکسین کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف موثر ہوگی، تاہم اگر ضروری ہوا تو وہ 6 ہفتوں میں ویکسین کو اس کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ بائیو این ٹیک اور فائزر نے مشترکہ طور پر کورونا ویکسین تیار کی تھی جسے دنیا میں سب سے پہلے استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

اب برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم کو شناخیت کیا ہے اور اس حوالے سے بائیو این ٹیک کے شریک بانی اوغور شاہین نے کہا ‘سائنسی طور پر زیادہ امکان یہی ہے کہ ویکسین کا مدافعتی ردعمل اس نئی قسم کے خلاف بھی کارآمد ہوگا’۔

انہوں نے مزید کہا ‘میسنجر ٹیکنالوجی کی خوبی یہی ہے کہ ہم اس میں براہ راست ایسی تبدیلیاں کرسکتے ہیں جو نئی میوٹیشن کی مکمل نقل کرسکے، یعنی ہم تیکنیکی طور پر نئی ویکسین 6 ہفتوں میں فراہم کرسکتے ہیں’۔

اوغور شاہین نے کہا کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والی قسم میں 9 جینیاتی میوٹیشن کو دیکھا گیا ہے، جبکہ عام طور پر ایک میوٹیشن ہی ہوتی ہے۔

انہوں نے فائزر کے ساتھ مل کر تیار کی جانے والی ویکسین کی افادیت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا ‘یہ ایک ہزار سے زائد امینو ایسڈز سے لیس ہے، جن میں سے صرف 9 میں تبدیلی آئی ہے، یعنی 99 فیصد پروٹین اب بھی پہلے جیسے ہیں’،

انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین کی اس قسم پر آزمائش جاری ہے اور نتائج 2 ہفتے میں سامنے آسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ‘ہمیں اعتماد ہے کہ ویکسین تحفظ فراہم کرے گی، مگر اس کی تصدیق تجربے کے بعد ہوگی، ہم ہر ممکن حد تک جلد ڈیٹا کو شائع کریں گے’۔

وائرس کی نئی قسم
عالمی ادارہ صحت نے ہفتے کی شب ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کورونا کی نئی قسم کے حوالے سے برطانوی حکام سے رابطے میں ہیں اور وعدہ کیا کہ جلد حکومتوں اور عوام کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔

وائرس کی یہ نئی قسم جنوب مشرقی برطانیہ میں ستمبر میں سامنے آئی تھی اور جب سے اس خطے میں پھیل رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ماہر ماریہ واک کرکوف نے بتایا ‘ہم جہاں تک سمجھ سکے ہیں وہ یہ ہے کہ اس قسم نے پھیلاؤ کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سمھنے کے لیے تحقیقات جاری ہے کہ یہ کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور کیا یہ اس قسم سے متعلق ہے یا دیگر عناصر کا مجموعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ قم ڈنمارک، نیدرلینڈز اور آسٹریلیا میں بھی سامنے آئی ہے، مگر وہاں کیسز زیادہ تیزی سے پھیلے نہیں۔

انہوں نے کہا ‘وائرس جہاں تک پھیلے گا، اتنا ہی اس میں تبدیلیوں کے مواقع آئیں گے، تو ہمیں اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے’۔

وائرسز میں مسلسل تبدیلیاں آتی ہیں اور سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس میں ہی متعدد تبدیلیوں کو وبا کے آغاز کے بعد سے دریافت کیا ہے۔

ان میں بیشتر تبدیلیوں سے وائرس کے افعال پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے یعنی اس کے آسانی سے پھیلنے یا سنگین علامات وغیرہ۔

SHARE

LEAVE A REPLY