ایسے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ امریکی کانگریس پر گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے شدت پسند حامیوں کا حملہ ممکنہ سلسلہ وار مسلح اور پرتشدد حملوں کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے اور ان حملوں کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری تک جاری رہنے کے خدشات موجود ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ ایسے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ گروپ اور افراد انتقالِ اقتدار کے موقع پر تشدد کو ہوا دے سکتے ہیں یا کسی مجرمانہ سرگرمی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ وفاقی ادارہ عام طور پر کسی مخصوص خفیہ اطلاع پر تبصرہ نہیں کرتا، البتہ ادارہ قانون نافذ کرنے والے اپنے وفاقی اور مقامی شراکت داروں کی مدد کر رہا ہے۔
بیان میں ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ہماری توجہ پرامن مظاہرین پر نہیں لیکن ان پر ہے جو اپنی اور دیگر شہریوں کی سلامتی کو تشدد اور املاک کی تباہی کے ذریعے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ایف بی آئی نے ایک الرٹ بھی جاری کیا ہے جس میں واشنگٹن اور دیگر پچاس ریاستوں میں ممکنہ طور پر تشدد کے واقعات پیش آنے کے خدشات کا ذکر ہے۔ اس الرٹ کی کاپی سب سے پہلے ‘اے بی سی’ نیوز اور ‘یاہو’ نیوز نے حاصل کی ہے۔
ایف بی آئی کے الرٹ کے مطابق وفاقی ادارے کو ایک جانے پہچانے مسلح گروپ کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ وہ سولہ جنوری کو واشنگٹن جانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کانگریس نے موجودہ صدر کو 25 ویں ترمیم کے تحت عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی تو بہت بڑی مزاحمت ہو سکتی ہے۔
ایف بی آئی نے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ مسلح گروہ ریاستی، مقامی اور وفاقی عمارتوں پر حملوں کی بھی دھمکی دے رہا ہے۔
مخصوص دھمکیوں پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے دیگر حکومتی ادارے بھی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
……………….
یو ایس کیپیٹل پولیس کے سبکدوش ہونے والے پولیس چیف نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے مظاہرین کی کانگریس کی عمارت پر چڑھائی سے پہلے انہوں نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے سکیورٹی حکام سے ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے نیشنل گارڈ کی طلبی کی درخواست کی تھی لیکن اس تجویز کو رد کر دیا گیا۔
پولیس چیف سٹیون سنڈ نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کو بتایا کہ نیشنل گارڈ کی مدد سے حملہ آوروں کو زیادہ دیر تک روکا جا سکتا تھا اور اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزید نفری آ سکتی تھی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس چیف سنڈ نے سینیٹ کے سارجنٹ ایٹ آرمز مائیکل سٹنگر کو تجویز دی تھی کہ وہ نیشنل گارڈ سے ان کے عملے کو بوقت ضرورت تیار رہنے کے لیے کہیں۔
لیکن ان کے بقول ایوان نمائندگان کے سارجنٹ ایٹ آرمز پال ارونگ نے کہا کہ انہیں یہ پریشانی ہے کہ صد ٹرمپ کے حامیوں کے احتجاج سے پہلے ایسا کرنے کو ایمرجنسی کے اعلان کے طور پر دیکھا جائے گا۔
اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے سینیٹ کے سیکیورٹی افسر سٹنگر نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ ایوان نمائندگان کے سیکیورٹی افسر ارونگ سے ان کا رابطہ نہیں ہو سکا۔
وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یو ایس کیپیٹل پولیس نے پینٹاگان سے کانگریس پر حملے سے قبل نیشنل گارڈ کی مدد کے لیے درخواست نہیں کی تھی۔
ہنگامہ آرائی میں ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔
ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتجاج سے پہلے یو ایس کیپیٹل پولیس نے صد ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے اس ہنگامہ آرائی کے واقع سے قبل پولیس کی مزید نفری تعینات کرنے کی کوئی تیاری نہیں کی تھی کہ اس کے پر تشدد شکل اختیار کرنے کی صورت میں اس سے کیسے نمٹا جائے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کیسے اتنی آسانی سے کیپیٹل پولیس کے محدود تعداد میں موجود اہل کاروں کی بندشوں کو پھلانگ کر آگے بڑھ گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس اس دن اس ضروری ساز و سامان سے لیس نہیں تھی جو کہ ہنگامہ آرائی کی صورت حال سے نمٹنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب احتجاج میں شامل لوگوں نے کیپیٹل کی عمارت پر ہلہ بولنا شروع کیا تو ایک پولیس لیفٹینٹ نے گولی نہ چلانے کی ہدایت کی۔ یہ امر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ عمارت کے باہر تعینات پولیس افسروں نے حملہ آور ہجوم کے خلاف اسلحہ کیوں استعمال نہیں کیا۔
بعض اوقات پولیس کو ان کے افسروں کی طرف سے ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ حالات کے بگڑنے کے خطرے کے پیش نظر اسلحہ استعمال نہ کریں کیونکہ ہو سکتا ہے اس سے بھگدڑ مچ جائے یا گولیاں برسنے لگیں۔













