براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی نے کہا ہے کہ ڈیوڈ روز جھوٹ بول رہے ہیں، اگر میں غلط ہوں تو لندن ہائی کورٹ میں مجھ پر مقدمہ کردے۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں براڈ شیٹ کے سربراہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ساتھ ملاقات کے معاملے پر گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سے متعلق ڈیلی میل کے صحافی جھوٹ بول رہے ہیں، اگر وہ غلط ہیں تو ان کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں مقدمہ کردیا جائے۔
کاوے موسوی نے کہا کہ براڈ شیٹ اسکینڈل کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کمیشن کے سربراہ انھیں بلائیں گے تو یہ پاکستان ضرور جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان سے متعلق معلومات پاکستان کے عوام کے لیے ہیں، انھیں مفت میں ڈیلی میل کو نہیں دوں گا۔
موسوی نے کہا کہ شہزاد اکبر سے دوسری ملاقات کے بعد ڈیوڈ روز سے دوستی ختم اور اس کی توقیر جاتی رہی، ڈیوڈ روز نے شہزاد اکبر سے ملاقات کرکے معاملہ حل کروانے کی پیشکش کی تھی۔
براڈ شیٹ سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ نے کہا کہ مجھے کیا ملے گا، میرے ذمے بڑی مارگیج ہے، تاہم اس پر ڈیوڈ کو یہ پیشکش کی تھی کہ مجھے تمام رقم ملی تو مارگیج ادا کردی جائے گی۔
کاوے موسوی نے کہا کہ ڈیوڈ روز کی خواہش تھی کہ میرا شہزاد اکبر سے نیا معاہدہ ہوجائے، جس کے لیے وہ اصرار کرتے رہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کا فِگر بھی اسی کی طرف سے آیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر سے ملاقات میں کہا تسلیم کرنا چاہیے وہ مقدمہ اور اپیل ہار گئے ہیں، تاہم تسلیم کرنے کے بجائے شہزاد اکبر نے میری کمپنی کے بارے میں سوالات اٹھائے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیوڈ روز سے کہا تھا کہ کیا تمہارے خیال میں یہ شخص واقعی کرپشن کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے؟
واضح رہے کہ براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موسوی نے دعویٰ کیا تھا کہ 19 اکتوبر 2019 کو شہزاد اکبر سے ان کی پہلی میٹنگ ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روز نے کروائی تھی اور وہ اس میٹنگ میں شریک بھی ہوئے تھے۔
کاوے نے کہا تھا کہ ڈیلی میل کے رپورٹر نے شہزاد اکبر سے ملاقات کرانے کے لیے ڈھائی لاکھ پونڈز کا کمیشن مانگا۔
بعدازاں ڈیوڈ روز نے کاوے موسوی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کاوے نے خود ملاقات کی درخواست کی اور پیسوں کی پیشکش کی تھی۔
ڈیلی میل کے صحافی کے مطابق ’میں صرف اپنے دوست کو فائدہ پہنچانا چاہتا تھا حالانکہ موسوی نے مجھے دو دفعہ کہا کہ اگر ان کی سیٹلمنٹ ہوئی تو وہ مجھے کمیشن دیں گے۔‘












