
امریکہ کےانٹیلیجنس عہدہ داروں نے پیر کو کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کو ہیک کرنے کا ذمہ دار ہے، اور یہ کہ سائبر مداخلت تہران کی جانب سے امریکی سیاست میں دخل اندازی اور جمہوری اداروں پر اعتماد کو کمزور کرنے کی وسیع تر کوشش کے ایک حصے کے طور پر کی گئی۔
اگرچہ ٹرمپ کی مہم اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے سائبر سیکیورٹی تفتیش کار پہلے کہہ چکے تھے کہ ہیکنگ کی کوششوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ امریکی حکومت نے حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے۔
ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ جارجیا اٹلانٹا میں ایک انتخابی مہم کے دوران ۔ فوٹو اے ایف پی 3اگست 2024
ایف بی آئی اور دیگر وفاقی ایجنسیوں کے مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران، نائب صدر کاملا ہیرس کی مہم کو ہیک کرنے کی کوششوں کا ذمہ دار ہے، اور ہیکرز نے “ان افراد کے اکاؤنٹس تک رسائی کی کوشش کی تھی جن کو دونوں سیاسی جماعتوں کی صدارتی مہم تک براہ راست رسائی حاصل تھی۔”
وفاقی حکام نے کہا کہ ہیکنگ اور دیگر سرگرمیوں کا مقصد نہ صرف اختلاف کا بیج بونا تھا بلکہ انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونا بھی تھا جنہیں ایران “خاص طور پر ان اثرات کے لحاظ سے نتیجہ خیز سمجھتا ہے جو اس کی قومی سلامتی کے مفادات پرمرتب ہو سکتے ہیں۔”
اس بیان میں جسے ایف بی آئی کے علاوہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس اینڈ سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کے دفتر نے بھی جاری کیا ہے کہا گیا ہے کہ، “ہم نے اس انتخابی دور میں تیزی سے بڑھتی ہوئی جارحانہ ایرانی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا ہے، خاص طور پر امریکی عوام کو ہدف بنانے والی اثر و رسوخ کی کارروائیاں اور صدارتی مہم کو نشانہ بنانے والی سائبر کارروائیاں۔”
یہ بیان بڑی حد تک مائیکروسافٹ جیسی نجی کمپنیوں کے نتائج کی تصدیق کرتا ہے جس نے اس ماہ کے شروع میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں اس سال کے انتخابات میں غیر ملکی ایجنٹوں کی مداخلت کی کوشش کی تفصیل بتائی گئی تھی۔












