ریڈیو پاکستان کے پنشنرز در بہ در ہیں اور اعلی افسران ہٹ دھرمی اور سفاکی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس خبر نے بہت دکھی کیا کبھی کبھی تو لگتا ہے ہم پاکستانی دنیا میں آئے ہی رونے کے لئے ہیں بے حسی عروج پر ہے ۔
“یہ ریڈیو پاکستان ہے”اج بھی یہ آواز کانوں میں گونجتی ہے کتنی پیاری یادیں وابستہ ہیں نانی کے گھر کا وہ کونہ جہاں خاص اوقات میں خبریں سنی جاتیں گھر کے تمام افراد ریڈیو کے گرد بیٹھا کرتے ٹی وی آنے کے بعد بھی ریڈیو کی اہمیت ہرگز کم نہ ہوئی تھی اتوار کے روز جیدی صاحب کا پروگرام سارے گھر میں قہقہے بکھیرتا۔۔سردیوں کی راتوں میں غزلیں سننا آج بھی یاد ہے
بچپن میں ریڈیو اسٹیشن جانے کا اتفاق ہوا وہ لوگ وہ منظر آج بھی یاد ہیں مگر اب جب جب ریڈیو اسٹیشن جانے کا موقعہ ملا سوائے اذیت کے کچھ محسوس نہ ہوا بد حالی عروج پر دیکھی چاہے اسٹوڈیو ہو یا میزبان ،مہمان ہوں یا چائے کی پیالیاں سب اجڑے دیار کی کہانی سناتے ملے۔۔۔
میں انتظامی معاملات کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتی مگر ریڈیو پاکستان کراچی کی حالت زار چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ اس ادارے کو برباد کردیا گیا ہے جب مہمانوں کو ان کی آمد پر معمولی سی رقم کے چیک نہیں دیئے جاتے تو بے چارے پنشنرز کی کس کو پرواہ۔۔۔
سچ پوچھیں تو ریڈیو پاکستان دیگر اداروں کی طرح وینٹیلیٹر پر ہے۔۔۔
منزہ سہام مرزا












