منزہ سہام مرزا کو میں 1985ءسے 1987ءکے زمانے سے جانتی ہوں جب منزہ اور عائشہ نور کی تصویر بچوں کے سرورق پر چھپی تھی۔ محترمہ رخسانہ سہام مرزا اور منزہ سہام مرزا کی مہمان نوازی کا خوبصورت انداز ابھی تک میرے دل پر نقش ہے۔ جب میں دوشیزہ کے تیسرے ایوارڈ کے لیے کراچی گئی تھی اور میری رہائش کا انتظام انہوں نے اپنے گھر پر کیا۔ رخسانہ سہام مرزا صاحبہ کے ہاتھ کی چٹنی اچار اور لذیذ کھانے ان کا ذائقہ ‘ ایئرپورٹ سے لانا اور واپس ایئرپورٹ پر چھوڑنا ان کی محبت آج تک یاد ہے۔ ہم سب کو ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم عمران خان کو کہنا ہے کہ جمیل احمد خان جیسے غنڈے کو انصاف کی زنجیروں سے جکڑ کر حضرت عمرؓ کے انصاف کا بول بالا کریں۔
منزہ جی ہم سب آپ کے ساتھ ہیں آپ کے لیے دعا گو ہیں آپ نے جو دس سال تکلیف سہی ہے میں اس کو روح کی گہرائیوں سے محسوس کررہی ہوں میں ماں ہوں۔ اللہ تعالیٰ ’ماں‘ کی دعا رد نہیں کرتا۔ جو خود ستر ماﺅں سے زیادہ پیار کرتا ہے میری بہادر بچی…. آپ اکیلی نہیں ہو۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ انشاءاللہ آپ کو انصاف ضرور ملے گا۔ میری دعائیں اپنی بہادر بیٹی کے ساتھ ہےں۔ حوصلہ بلند کرنا جیت سچائی کی ہوگی انشاءاللہ….
وزیراعظم عمران خان سے ہمیں بہت ساری امیدیں تھیں ابھی بھی کچھ باقی ہیں۔ تین سال تو گزر چکے ہیں وزیراعظم صاحب اب آپ کے پاس صرف دو سال باقی ہیں۔ جو کوتاہیاں آپ سے تین سال میں ہوچکی ہیں۔ خدا کے لیے آنے والے دو سالوں میں ان کا مداوا کردیجیے۔ میں ایک ماں ہوں منزہ میری بیٹی عائشہ کی ہم عمر ہے۔ میں اس کے دکھ کو روح کی گہرائیوں سے محسوس کررہی ہوں۔ آپ اس ظالم اور بے حس کی رسی کھینچ لیجیے ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن یہ رسی آپ کے لیے پھندہ بن جائے۔ جمیل احمد خان آپ کے قریبی لوگوں میں شامل ہے۔ آپ ریاست کے سربراہ ہیں۔ آپ اپنے لوگوں کے ظلم و زیادتی کے اس جہاں میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی جوابدہ ہیں۔ وہ معصوم ماں دس سال سے انصاف کے لیے دھکے کھا رہی ہے اس کو انصاف نہیں مل سکا۔ ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنا بہت آسان ہے وزیراعظم صاحب‘ انصاف دلانا بہت مشکل ہے آپ ایک مرتبہ حضرت عمر اور اس زمانے کے انصاف کو یاد کرلیجےے۔ یہ دنیا کا مال ہے یہاں ہی رہ جانا ہے۔ حق دار کو اس کا حق دلا دیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عزت اور وقار میں اور اضافہ کرے گا۔ آپ منزہ بیٹی کے آنسو پونچھ دیجیے۔ اس کا اجر اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا جمیل احمد خان کو سخت سے سخت سزا دیں تاکہ آئندہ کے لیے کسی کو جرا ¿ت نہ ہوسکے۔ آپ کا ایک عمل بہت سارے ظالم لوگوں کے لیے عبرت کا نشان ہوگا۔ یہ دنیا فانی ہے یہاں سے سب نے خالی ہاتھ جانا ہے۔ لیکن اپنے اعمال ساتھ ہوں گے۔ دعائیں ساتھ ہوں گی تو پل صراط آسان ہوگا۔ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے جواب دہ ہوں گے ۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم رسول اللہ کے امتی ہیں اسلام کا اصول ہے کہ کسی حق دار کا حق اس کو دلایا جائے۔ آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو گریباں سے پکڑلیں۔ آپ کی آخرت سنور جائے گی۔ دنیا میں آپ کا وقار اور عزت ہے پاکستان کے لیے آپ جیسا وزیراعظم چاہیں جو اپنی زبان کا پکا ہو۔ آپ نے انصاف کے نام پر اپنی تحریک کا نام رکھا تھا۔ اب وہی انصاف آپ سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے۔ منزہ سہام مرزا کو اس ظالم شخص اور اس کے بچوں کو اس ظالم سے تحفظ دیا جائے انصاف وہی ہوتا ہے جو بروقت اور دہلیز پر دیا جائے۔ آپ کا وعدہ ” انصاف آپ کی دہلیز پر“ کہاں ہے…. کہاں ہے…. کہاں ہے؟
فرحت صدیقی ‘ فیصل آباد













