سنا تھا گائوں دیہاتوں میں عورتوں کا بڑا استحصال ہوتا ہے۔ کہیں نام نہاد عزت و ناموس کی خاطر اسے قتل کردیا جاتا ہے؟ تو کہیں جائیداد بچانے کی خاطر گھر کی بیٹی اور بہن سے زبردستی ان کے کاغذات پر دستخط لے لیے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا تھا کہ یہ سب ظلم’ جہالت کے ہاتھوں ہوتے ہیں اور شکر ادا کرتی تھی کہ ہم شہر میں رہنے والی عورتیں ہیں۔
لیکن یہ کیا… منزہ سہام مرزا جو ایک اعلیٰ ادبی خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟ جب اسے ایک ظالم’ بدنیت شخص اتنے سالوں سے ذہنی عذاب میں مبتلا رکھ سکتا ہے اور وہ اس لیے خاموش رہیں کہ دنیا کو جگ ہنسائی کا موقع نہ ملے۔ شاید اس طاقت کے زعم میں ہونے والے شخص کو ہدایت مل جائے۔ اسے اپنی گری ہوئی حرکتوں پر شرمندگی ہو۔ وہ اس سے معافی مانگ کر پیچھے ہٹ جائے۔
لیکن جب کسی شخص کی آنکھوں میں کسی جانور کا بال آجائے اور اقتدار کی چربی بھی چڑھ جائے تو اسے اپنا ہر گھٹیا اور قبیح فعل بھی جائز اور درست لگتا ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جب وہ پڑتی ہے تو انسان بلبلا کر رہ جاتا ہے اور انشاء اللہ اس شخص کے ساتھ جس کا نام جمیل احمد خان ہے ایسا ہی ہوگا۔ اعلیٰ عدالتوں کو مذاق بنانے والے کو’ عدالتوں کا قیمتی وقت یوں سربازار برباد کرنے والے کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں’ جو شخص عدلیہ کو عزت نہیں دے رہا وہ ایم این اے تو کیا کونسلر بننے کے بھی لائق نہیں اور اس بار اس کی ٹکر اس صنف نازک نہیں صنف آہن کے ساتھ ہوئی ہے۔ جو اپنے ارادوں میں چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ وہ صرف اپنے اللہ سے ڈرتی ہے اور اللہ سے ڈرنے والے کسی سے نہیں ڈرتے جمیل جیسے شخص سے تو ہر گز نہیں۔ منزہ تم تنہا نہیں ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ تمہارے لیے آواز اٹھائیں گے کہ تم ہمیں اتنی ہی عزیز ہو جتنی سہام مرزا کو تھیں۔
اور جمیل احمد ڈرو اس وقت سے جب تم منہ کے بل گرو گے اس طرح کہ تمہارا چہرہ مسخ ہوجائے گا اور تمہارے اپنے بھی بھی تمہیں نہیں پہچان سکیں گے کہ بلاوجہ کسی کی آہ لینے والے نہ یہاں خوش رہتے ہیں نہ آخرت میں رسوائی دونوں جگہ ان کا مقدر ہوتی ہے۔
منزہ مجھے تم پر فخر ہے تم میرے وطن کی روتی سسکتی بے بس عورت نہیں ہو ایسی عورتوں کے لیے مشعل راہ ہو۔
آخر میں میری تمام ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں دلچسپی لیں اور خدارا پاکستان کی عدالتوں کو مذاق بنانے والے کو اپنی پارٹی سے نکال دیں۔
سیما مناف












