گردن میں زور ہے مجھے مصلوب کیجئے
مجرم کوئی اور ہے مجھے مصلوب کیجئے
مفتی نے مجھ پہ گُفر کا فتوی لگا دیا
مسجد میں شور ہے مجھے مصلوب کیجئے
سچ بولنے کے جُرم کی ہاں دیجئے سزا
جھوٹوں کا دور ہے مجھے مصلوب کیجئے
ڈاکہ زنی بھی اسکے مقلد کا وصف ہے
واعظ بھی چور ہے مجھے مصلوب کیجئے
باہر بھی ایک قبر بنی میرے نام کی
اندر بھی گور ہے مجھے مصلوب کیجئے
مسجد میں کارخانہ ہے فتووں کا کھل چکا
یہ ظلم وجور ہے مجھے مصلوب کیجئے
مسلک کی آگ میں ہے میرا شہر جل گیا
کب دیں پہ غور ہے مجھے مصلوب کیجئے
صفدر میرے عدو کا ھدف اور ہے مگر
مقصد کچھ اور ہے مجھے مصلوب کیجئے
صفدر ھمدانی













