امریکہ کے ایک ریٹائرڈ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے عہدہ کی پیش کش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مائیکل فلن کے مستعفی ہونے کے بعد رابرٹ ہارورڈ کو قومی سلامتی کا مشیر بنانے کی پیش کش کی گئی تھی۔

فلن نے ان اطلاعات کے بعد استعفٰی دیے دیا تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل روس کے سفیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں روس کے خلاف عائد تعزیرارت کے بارے میں بات کی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ہارورڈ نے اپنی نجی ذمہ داریوں کی وجہ سے یہ پیش کش مسترد کر دی ہے، تاہم رابرٹ ہارورڈ کے فیصلے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ٹیم اپنے ساتھ لانا چاہتے تھے۔

ٹرمپ پہلے ہی قومی سلامتی کی نائب مشیر کے ٹی میکفارلینڈ کو کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں گی۔

عہدیداروں نے رواں ہفتے کہا تھا کہ قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے کی لیے دو دیگر شخصیات کے نام بھی لیے جا رہے ہیں جن میں قومی سلامتی کے قائم مقام مشیر کیتھ کیلاگ اور ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پٹریئس شامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY