جب کوئی ادارہ، شہر یا ریاست نااہلی اور بدانتظامی کی بھینٹ چڑھ کے تباہی کے دھانے پر پہنچ جائے تو یہ کارنامہ سرانجام دینے والے کو بے حسی کا تاج پہنا کر نیرو سے تشبیح دی جاتی ہے۔
المیہ یہ ہے ریڈیو پاکستان کا خون چوسنے کے لیئے وزارت_اطلاعات و نشریات کی زنبیل سے ایک نہیں کئی نیرو نما جونکیں اس ادارے کے سب سے اھم منصب یعنی ڈائریکٹر جنرل کی نشست پر بٹھائی گئیں۔ ہر ایک نے اپنے مصاحبین اور ادارے کے اندر موجود طبلچیوں کے ساتھ مل کر خوب موج میلہ کیا، اپنے لیئے ترقی کے راستے ھموار کئیے اور پھر ریڈیوپاکستان کو جاں بلب چھوڑ کر چلتے بنے۔

آجکل بھی یہ ادارہ ایک ایسے ہی نیرو کی گرفت میں ہےجس نے ملازمین کے سر اور رئٹائرڈ ملازمین کے پیٹ پر پاوں رکھ اپنی رام لیلا برپا کی ہوئی ہے۔ ایک جانب ملازمین کو دینے کے لیئے تنخواہیں نہیں، کئی ماہ سے رئٹائرڈ ملازمین کو پینشن نہیں ملی لیکن دوسری جانب ڈی جی ریڈیو اور ھمنوا نت نئ وارداتوں کے ذریعے آئے روز کروڑوں روپے اپنے اللوں تللوں پر اڑا رہے ہیں۔ کبھی نئے چینلز کے نام پر تو کبھی سٹوڈیوز کی تزئین و آرائش کے نام پر ریڈیوپاکستان کے اندر لکڑ ہضم پتھر ہضم کا تماشہ لگا ہوا ہے۔

آج تک ریڈیوپاکستان اپنے پروگراموں، خبروں اور درست اطلاعات کی بروقت ترسیل و رسائی کے لیئے پہچانا جاتا تھا لیکن اب اس کے ملازمین کو کرکٹ کھلا کر اور اپنے ذاتی کاروبار کی تشہیر میں جھونک کر کفن دفن کا پکا بندوبست کیا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب اسلام آباد ریڈیو کا انگریزی زبان میں ایک گھنٹے کا پروگرام “اسلام آباد کالنگ” سرکاری اور سفارتی شعبوں کی اھم شخصیات کے ساتھ مربوط روابط کی سند سمجھا جاتا تھا، اب اس کام کے لیئے پورا چینل بنا دیا گیا ہے جہاں رنگ برنگی نوازشات کا میلہ صرف اس لیئے سجایا جاتا ہےکہ عصر_دوراں کےنیرو کی اگلی ترقیوں کا راستہ ھموار ہوسکے۔ کسی بھی ادارے کے سربراہ کی بنیادی زمےداری اس ادارے کی تعمیروترقی، حاضر اور رئٹائرڈ ملازمین کی فلاح و بہبود ہوتی ہے لیکن داد دیجئے وزارت_اطلاعات و نشریات سے نازل ہونے والے ان بونے بابوں کو جن کی سوچ میچوں اور ذاتی فائدوں سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتی۔
کیا ریڈیوپاکستان ھمیشہ سے تنزلی اور زبوں حالی کا شکار تھا؟
کیا ادارے کے مالی حالات کو اس نہج تک پہنچانے والے کسی ایک بابو سے پوچھا گیا کہ آپ کو ادارے کی بہتری کے لیئے بھیجا گیا تھا لیکن آپ نے کیا کیا؟ اب پوچھنا کس نے اور کیا تھا بلکہ جو بابو بھی ریڈیوپاکستان کو مزید تباہی کی جانب دھکیلنے میں کامیاب ہوا سیدھا گریڈ 22 اور سیکرٹری کی سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔
اس بات سے ثابت ہوا کہ یہاں نازل ہونے والے ہر ڈی جی نے ریڈیوپاکستان کو اپنے ذاتی مفاد کے لیئے استعمال کیا اور ادارے کے موجودہ و سابقہ ملازمین کو رونے اور سسکنے کے لیئے چھوڑ دیا۔

موجودہ صورتحال میں ریڈیوپاکستان میں کام کرنے والے ملازمین، اپنی پوری عمر اس ادارے کی آبیاری میں صرف کرنے والے پینشنرز ، ریڈیوپاکستان سے وابستہ افراد اور اس ادارے کی اھمیت سمجھنے والی شخصیات کو جاگنا ہوگا اور ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہوکر ادارے کو بچانے کی جستجو کرنی ہوگی ۔ اسلام آباد میں موجود ادارے کے حاضر اور سابق ملازمین کا کردار بنیادی ہے اس سلسلے میں دوسرے شہروں کے لوگ مشترکہ مقاصد کے حصول کے مالی تعاون کریں تاکہ ایک موثر مہم تشکیل پا سکے۔
تمام دوست سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر زیادہ سے زیادہ اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ اپنے تعلقات کی بنا پر ہر اس شخصیت اور میڈیا پرسن تک ریڈیوپاکستان اور اپنے حالات پہنچائیں جن کی بات سنی اور دیکھی جاتی ہے تاکہ قومی سطح پر یہ بات اجاگر ہو۔

بین الاقوامی نشریاتی اداروں سے وابستہ افراد سے ھمارے روابط اور ان تک اس ادارے کے حوالے سے اطلاعات کی ترسیل بھی اس سلسلے میں اھم کردار ادا کرسکتی ہے
جاں بلب













