دینی امور میں مناظرہ بازی اور دعوت الی اللہ کی نوعیت میں واضح فرق ,عبدالرحمٰن

0
1024

#دینی امور میں مناظرہ بازی اور دعوت الی اللہ کی نوعیت میں واضح فرق#

ہم سبھی مسلمانوں پر بغیر کسی تفریق کے یہ حقیقت اچھی طرح واضح رہنی چاہیے کہ دین خداوندی نے مسلمانوں پر ان کے داخلی امور و اعمال کے علاوہ جو بنیادی ذمے داری عائد کی ہے وہ ہے مکمل ادب و احترام، بلند اخلاقیات، مہذب اور شائستہ اسلوب میں انسانوں کے درمیان “دعوت الی اللہ” کا عمل، نہ کہ لوگوں کو مرعوب کرنے کی غرض سے مناظرہ بازی۔ بلا شبہ، ان دونوں اصطلاحات کے پس منظر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ زیر نظر مضمون میں اسی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مناظرہ (Debate) کے ذریعے اپنی بات کو منوانے کے طریقے میں جو سب سے بڑی برائی پوشیدہ ہے وہ ہے”فتح و شکست” کی نفسیات کا پیدا ہوجانا۔ اس کے برعکس دعوت کا عمل یکطرفہ خیرخواہی کا معاملہ ہے۔ فتح و شکست پر مبنی معاملات ضد، منافرت، عداوت اور دشمنی پیدا کرتے ہیں اور ماحول کو ناخوشگوار بنادیتے ہیں، جب کہ لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کا عمل ان کے دلوں میں جگہ بناتا ہے اور معاشرے میں رفاقت اور بھائی چارے کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

صرف اپنا بھلا چاہنے کے بجائے، دوسروں کا بھلا چاہنا، ان کی کام یابی کے لیے فکرمند ہونا اور اپنی گفتار کو واضح اور نرم لب و لہجے سے ہمکنار رکھنا، لوگوں کے دلوں میں فطری طور پر آپ کے لیے محبت اور احترام پیدا کر دیتا ہے۔ نتیجتاً، آپ کی بات بھی توجہ سے سنی جاتی ہے، اور کسی کی بات کا توجہ سے سنا جانا ہی اس کے حق میں آدھی کام یابی کی ضمانت ہے۔ اس لیے، اللہ رب العالمین کی بات کو لوگوں تک پہنچانے کے معاملے میں سنجیدہ ہونے کی وجہ سے، دین کا داعی اپنے مدعو کے لیے مجسم خیر خواہی بن جاتا ہے۔

بلا شبہ، ایک سچا داعی اپنے مخاطب کو اپنا حریف نہیں، بلکہ اپنا عزیز و محترم گردانتا ہے۔ وہ شائستگی کے ساتھ صرف اپنے دین کا موقف بیان کرتا ہے تاکہ سامنے والی شخصیت بھی خود اپنے موقف پر نظر ثانی کی بابت غور وفکر کرسکے۔ داعی کبھی بھی اپنی بات منوانے کے لیے اصرار نہیں کرتا، کیوں کہ وہ پہلے سے ہی دین کے اس حکم سے واقف ہوتا ہے کہ ” تمہارا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار کا معاملہ ہے”.

دعوت الی اللہ کوئی ایسا ثقیل فلسفہ نہیں ہے کہ سمجھ میں نہ آسکے۔ اس کا بنیادی کام انسان کی فطرت(Nature) کو جگانا ہوتا ہے۔ دین کا داعی لوگوں کو ان کی فطرت کے رموز سے روشناس کراتے ہوئے یہ واضح کرتا ہے کہ خالق کائنات نے خیر و شر کے ساتھ ساتھ انسان کے مخلوق (The Creation) ہونے کا احساس بھی خود اس کی شخصیت میں پیوست کردیا ہے۔ دور جدید کی علمی دریافتوں (Discoveries) نے تو انسانی تخلیق کو ایک مشاہداتی حقیقت بنادیا ہے۔ اس پوشیدہ حقیقت کے توسط سے انسان کو عطا کیے گئے عقل وشعور اس کو یہاں تک رہ نمائی فراہم کر دیتے ہیں کہ ضرور “کوئی” اس کا خالق(The Creator) ہونا چاہیے۔ کائنات کی حیرت انگیز بناوٹ اور آفاق و انفس میں پھیلی ہوئی عجیب و غریب قسم کی بے شمار نشانیوں کو دیکھ کر خود انسانی عقل بھی خالقِ کائنات کے ہونے پر انسان کو قائل کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

یہ حقیقت سمجھنے کے لیے انسانی عقل کافی ہے کہ ہر “بنی ہوئی چیز” کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ مخلوق کا خالق ہونا ناگزیر ہے۔ چونکہ انسان کے مخلوق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس لیے اس کا ایک خالق ہونا بھی یقینی ہے؛ اور اسی کو ہم عام فہم زبان میں “خدا”(God) کہتے ہیں۔ ایسی حالت میں، خدا کے وجود کا بلا تکلف انکار کر دینا اپنے آپ میں کتنی بڑی احمقانہ بات ہے۔ صرف احمقانہ بات ہی نہیں، اس تصور کے بعد تو خود انسان کا مخلوق ہونا ہی مشکوک ہو جانا چاہیے، مگر یہ ممکن نہیں؛ کیوں کہ کرہ ارض پر انسانی وجود آسمان میں چمکنے والے سورج کی طرح ایک روشن حقیقت ہے۔ اس لیے، مخلوق کی موجودگی کے ساتھ ہی خالق کا وجود خود بہ خود مصدقہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد، اپنے خالق کے وجود پر بحث کرنے کے بجائے، ہمارے اوپر یہ جاننے کی بھاری ذمے داری عائد ہوجاتی ہے کہ ہمارے خدا نے کیا ہمیں پیدا کرکے یوں ہی چھوڑ دیا ہے یا وہ ہم سے بھی کچھ چاہتا ہے۔ آخر کیوں گوناگوں نعمتوں اور وسیع مواقع سے بھری یہ دنیا ہمارے لیے مسخر کردی گئی ہے۔

یہ متعین کرنے میں کہ خدا کون ہے اور کیسا ہے، انسانی عقل خود کو عاجز پاتی ہے۔ دنیا کے مادی معاملات میں جو انسان بڑے بڑے حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہا ہے، خدا کی ہستی کا احاطہ کرنے میں یکسر لاچار ہے۔ یہاں پہنچ کر الہامی مذہب ہی انسان کو درست رہ نمائی فراہم کر سکتا ہے۔ الہامی رہ نمائی کے بغیر صرف عقل کی بنیاد پر خدا کی ذات و صفات اور اس کے معاملات کا تعین کرنے کی کوشش کرنا خود کو صحیح راستے سے بھٹکانے کے مترادف ہے۔ چونکہ خالق اور مخلوق کی نوعیت میں واضح اور بنیادی امتیاز ہونے کی وجہ سے انسان بذات خود اپنے خالق کی صحیح حیثیت اور وسیع کائنات کے متعلق اس کی منصوبہ بندی کی نوعیت کا احاطہ نہیں کر سکتا تھا، اس لیے دنیا میں انسانوں کی درست سمت میں رہ نمائی کے لیے پیغمبروں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

دنیاوی امور کو منظم اور مزین کرنے کے لیے تو انسانی عقل کافی ہے مگر موت کا معمہ اور اس کے بعد رونما ہونے والے احوال کو من وعن سمجھنے کے لیے یہ کافی نہیں۔ مزید، انسان کو ایک بڑے مقصد کے تحت تخلیق کرنے کے بعد دنیا میں بسایا گیا ہے اور “ارادہ و اختیار کی آزادی”(Free Will) بھی عنایت کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے دنیاوی امور کو کسی قسم کے تردد اور باہری دباؤ(External Forces) کے بغیر سر انجام دے سکے۔ خالق کائنات نے ہماری موجودہ دنیا کو عدل و انصاف کے بجائے “ابتلا” یعنی آزمائش کے اصول پر بنایا ہے۔ دنیاوی زندگی کے بارے میں، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو(سورۃ البقرہ-2: 155)۔
اس کے برعکس، آخرت یقیناً ہر زاویہ سے مکمل اور ہر عیب سے پاک دنیا ہوگی۔

چونکہ آزادی میں آزادی کے صحیح استعمال کے ساتھ ساتھ غلط استعمال کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ اس لیے، دنیا میں، آزادی کے اسی صحیح و غلط استعمال کو انسان کا “امتحان”(Test) بنادیے جانے کی وجہ سے موت اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کو “غیب”(The Unseen World) میں رکھ دیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں، انسان کو “ربانی رہ نمائی”(Divine Guidance) کی ضرورت تھی اور اس رہ نمائی کا انسانی شاکلے (human mould) میں ہونا بھی ضروری تھا۔ غیر انسانی وضع قطع میں موصول ہونے والے پیغامات کا ادراک نوع انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔

اس صورت حال کے پیش نظر خدا نے اپنے غیبی امور سے آگاہ کرنے کے واسطے اپنے صالح کردار، مخلص، سچے، اور دیانت دار بندوں میں سے پیغمبروں کا انتخاب کیا جو انسانوں کو کائنات کی بابت خدائی منصوبہ تخلیق اور متعلقہ معاملات سے انسانی زبان و اسلوب میں واقف کراسکیں، اور پیغمبروں کی نبوت سے پہلے والی صالح زندگی کی روشنی میں وہ ان کے ذریعے پیش کیے گئے حقائق کو قابلِ یقین اور مصدقہ بنا سکیں۔ اسی تصدیق کا دوسرا نام “ایمان” ہے، اور ایمان کے توسط سے بننے والے دین کا نام اسلام۔ اسلام کے پیغمبروں کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتا ہے۔

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں پیغمبروں کے ایک طویل سلسلے کی آخری کڑی ہیں۔ سنہ 570عیسوی میں مکہ مکرمہ میں پیدائش کے بعد آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے سنہ 610عیسوی میں نبی اور رسول کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ آخری رسول ہونے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی آخری اور محفوظ کتاب ہدایت – قرآن مجید بھی نازل فرمائی تاکہ آپ کی دنیا سے رخصتی کے بعد بھی تمام انسان قیامت تک اس ربانی رہ نمائی کے توسط سے اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کرتے رہیں۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کی روشنی میں مبعوث ہوئے، اس لیے آپ کی زندگی، آپ کے قول و افعال، آپ کی اخلاقیات، اسوہ حسنہ اور قرآن و سنت، سب کے سب دنیا بھر کے انسانوں کے درمیان مصدقہ حقیقت بن گئے ہیں۔ اب کسی بھی سنجیدہ اور مخلص انسان کے لیے خدائی حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں۔ کوئی سرکش انسان ہی یہ جسارت کرسکتا ہے۔بلا شبہ، اس قسم کی گستاخی یا سرکشی انسان کی اس کے آزادانہ اختیار کے امتحان میں ناکام ہونے کی کھلی دلیل ہے۔

قرآن مجید کی آیات میں پوشیدہ عجائبات صاحبان عقل و شعور پر برابر منکشف ہورہے ہیں اور قرآنی اعلان کے مطابق، یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہنے والا ہے تاک لوگوں پر یہ حقیقت واضح ہوتی رہے کہ قرآن پاک کا پیغام حق ہے۔ قرآن مجید کی آیات سے ہی انسانی تخلیق کے خاص مقصد کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو “ہمیشگی کی زندگی”(Eternal Life) کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر اس زندگی کو دو ادوار میں منقسم کردیا ہے – قبل از موت دور (Pre Death Period) اور بعد از موت دور (Post Death Period). پہلے دور کو “دنیا” (The World) اور دوسرے دور کو “آخرت”(The Hereafter) بھی کہا جاتا ہے۔

دنیا میں موت کا واقع ہونا زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ زندگی کے نئے اور ہمیشگی والے دور کا آغاز ہے۔ یہاں آباد کرنے سے پہلے لوگوں کو مرحمت کیے جانے والے درجات وانعامات کو متعین کرنے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے موجودہ عارضی دنیا میں حق و باطل کی کشمکش، صبر و شکر کی کیفیت اور صحیح و غلط حالات و واقعات کے درمیان صرف اپنے ارادے اور اختیار کی آزادی کے ساتھ صراط مستقیم پر قائم رہنے کے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ موجودہ دنیا کی کارکردگی کے آئینے میں ہی لوگوں کی اخروی زندگی کا تعین کیا جائے گا۔ وہاں عدل و انصاف اپنی معیاری صورت میں موجود ہوگا، اور کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا(سورۃ الانبیاء-21: 47)۔

مضمون کے عنوان کی طرف واپسی کرتے ہوئے، دعوت کا عمل اگر پورے اخلاص اور انسانی احترام کو ملحوظ رکھنے کے ماحول میں کیا جائے تو یہ نہ صرف دنیا میں اسلام کی تیز رفتار اشاعت کا سبب ہو سکتا ہے، بلکہ معاشرے میں مسلمانوں کی عزت اور وقار میں مزید اضافے کی وجہ بھی بنے گا۔ دراصل، دعوت الی اللہ ایک سراپا خیر خواہی کا عمل ہے جو انسانوں کو “خالق کائنات کے تخلیقی منصوبے” (The Creation Plan of God) سے آگاہ کرتے ہوئے نہ صرف ان کے دنیاوی معاملات کو درست سمت عنایت کرتا ہے، بلکہ ان کو اخروی زندگی میں بھی سرخروئی حاصل کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ انسان ہونے کی حیثیت میں ایک “ملحد” (Atheist) بھی اتنا ہی قابل احترام ہوتا ہے جتنا کہ ایک “مومن”, کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی “جان، مال، آبرو” کو حرمت عطا کی ہے۔ مناظرہ بازی کا طریقہ انسانیت کے اسی نازک پہلو کو مجروح کرتا ہے۔

کسی کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی چاہنے سے بڑی خیر خواہی اور کیا ہوسکتی ہے؛ اور جب یہ خیر خواہانہ عمل مسلمانوں کے ذریعے انجام پاتا ہوا نظر آئے گا، تو یقیناً بظاہر دشمن نظر آنے والے افراد میں بھی بھائیوں والی کیفیت پیدا ہونے لگے گی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا(سورہ فصلت-41: 34).
جس دن لوگوں پر مسلمانوں کی یہ تصویر واضح ہو جائے گی کہ اپنے دین کی تعلیمات کی وجہ سے
ان کے دل انسانی خیر خواہی اور انسانیت عامہ کے درد سے لبریز ہوتے ہیں، موجودہ دور کی وہ ساری کڑواہٹ اور گھٹن پیدا کرنے والی وہ صورت حال جس سے آج کا مسلمان دوچار ہے کب زائل ہو جائے گی پتا بھی نہیں چلے گا۔

اب تک کی گئی علمی و فکری کاوش کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دعوت کے عمل میں علمی و فکری بحث و مباحثہ کی کوئی جگہ نہیں۔ اپنے موقف کو قابل اعتنا بنانے کے لیے علمی اور عقلی دلائل کے ساتھ گفتگو کرنا بھی ناگزیر ہے۔ شرط صرف وہی ہے کہ داعی کے جذبات مخاطب کی خیرخواہی سے سرشار ہوں، نہ کہ بازی جیتنے کی تمنا سے آلودہ۔ اگر اللہ کے فضل سے ہم اپنے موقف کو واضح کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں صرف اپنی “فطری خوشی” تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ اس کے برعکس، اپنی حاصل شدہ خوشی کو جشن و جلوس میں مبدل کرنا خود گناہ کا ہی ارتکاب ہوگا۔
__ عبدالرحمٰن

SHARE

LEAVE A REPLY