بھارت: ممتاز مصنفہ اروندھتی رائے پر انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری

0
728

دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نے ممتاز بھارتی مصنفہ اور انسانی حقوق کی کارکن اروندھتی رائے اور سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے سابق پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کے خلاف سخت گیر انسدادِ دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اکتوبر 2010 میں نئی دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک انتہائی اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔

اروندھتی رائے عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں اور انہیں معروف ادبی انعام بکر پرائز بھی مل چکا ہے۔ وہ انسانی حقوق کی کارکن بھی ہیں اور بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی سخت ناقد تصور ہوتی ہیں۔

نئی دہلی میں لفٹننٹ گورنر ونائے کمار سکسینہ کے دفتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اروندھتی رائے اور پروفیسر شوکت حسین پر مقدمہ چلانے کے سلسلے میں یو اے پی اے کی دفعہ 45(1) کا اطلاق ہو گا۔

اس سے پہلے لیفٹننٹ گورنر نے اکتوبر 2023 میں ان دونوں شخصیات کے خلاف تعزیراتِ ہند کی نفرت انگیزی سے متعلق دفعات کے تحت عدالتی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی تھی۔

منافرت پھیلانے کی دفعات کے تحت کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے حکومت کی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY