فروری 28 کو جناب نسیم امروہوی کراچی میں وفات پاگئے

0
2625

محمد دین تاثیر کی پیدائش

٭28 فروری 1902ء اردو کے ایک معروف ادیب‘ شاعر‘ نقاد اورماہر تعلیم ڈاکٹر محمد دین تاثیر کی تاریخ پیدائش ہے۔
ڈاکٹر تاثیرقصبہ اجنالہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم لاہور سے حاصل کی اور پھر کیمبرج سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کیا‘ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ ڈاکٹر تاثیر ایک طویل عرصے تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ وفات کے وقت وہ اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔
وہ ایک اچھے غزل گو تھے۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے:
داور حشر! مرا نامہ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
ڈاکٹر تاثیر اردو میں آزاد نظم کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ان کی شاعری کا مجموعہ آتش کدہ اور نثری مجموعے مقالات تاثیر اور نثر تاثیر کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔
* 30 نومبر 1950ء کوڈاکٹر محمد دین تاثیر نے وفات پائی۔
———————————-

کلیم عثمانی کی پیدائش

٭ اردو کے ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم عثمانی کی تاریخ پیدائش 28 فروری 1928ء ہے۔
کلیم عثمانی کا اصل نام احتشام الٰہی تھا اور وہ دیوبند ضلع سہارنپور میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد کلیم عثمانی نے لاہور میں اقامت اختیار کی اور احسان دانش سے اصلاح لینی شروع کی۔ 1955ء میں انہوں نے کراچی میں بننے والی فلم انتخاب سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کے موسیقار فیروز نظامی تھے۔اس کے بعد انہوں نے ہمایوں مرزا کی فلموں بڑا آدمی، راز، دھوپ چھائوں کے نغمے لکھے۔فلم راز کے لئے تحریر کردہ ان کا نغمہ میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا بے مقبول ہوا۔ یہ نغمہ زبیدہ خانم نے گایاتھا اور اس کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی تھی۔
* 1966ء میں فلم ہم دونوں میں ان کی غزل ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا نے ان کی شہرت کو بام عروج پر پہنچادیا۔یہ گیت رونا لیلیٰ نے گایا تھا اور اس کی موسیقار نوشاد نے ترتیب دی تھی۔ بعدازاں کلیم عثمانی لاہور منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے متعدد فلموں میں مقبول گیت تحریر کئے۔جن میں ان کی اس زمانے کی فلموں میں عصمت، جوش انتقام، ایک مسافر ایک حسینہ، عندلیب، نازنین، دوستی، بندگی، نیند ہماری خواب تمہارے اور چراغ کہاں روشنی کے نام شامل ہیں۔ 1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کئے۔ فلم فرض اور مامتا میں انہوں نے ایک ملی گیت ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘ تحریر کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی اور نیرہ نور اور ساتھیوں کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا تحریر کردہ ایک اور ملی نغمہ ’’یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے‘‘ کا شمار بھی پاکستان کے مقبول ملی نغمات میں ہوتا ہے۔
کلیم عثمانی کی غزلیات کا مجموعہ دیوار حرف اور نعتیہ مجموعہ ماہ حرا کی نام سے شائع ہوا تھا۔ 28 اگست 2000ء کو کلیم عثمانی، لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں علامہ اقبال ٹائون میں کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
———————————-

نسیم امروہوی کی وفات

٭ اردو کے نامور مرثیہ نگار شاعر اور ماہر لسانیات جناب نسیم امروہوی کا اصل نام سید قائم رضا نقوی تھا اور وہ 24 اگست 1908ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا گھرانہ علمی اور مذہبی حوالے سے امروہہ میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ نسیم امروہوی نے عربی اور فارسی کے علاوہ منطق، فلسفہ، فقہ، علم الکلام، تفسیر، حدیث اور ادبیات کے تحصیل کی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے خیرپور میں اور پھر کراچی میں اقامت اختیار کی۔
نسیم امروہوی غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی، گیت اور نظم سبھی اصناف پر عبور رکھتے تھے لیکن ان کی اصل شناخت مرثیہ نگاری ہے۔انہوں نے اپنا پہلا مرثیہ 1923ء میں کہا تھا۔ ان کے کہے ہوئے مراثی کی تعداد 200 سے زائد ہے۔
وہ لسانیات پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے، وہ ایک طویل عرصے تک ترقی اردو بورڈ میں اردو لغت کے مدیر کی حیثیت سے وابستہ رہے اس کے علاوہ انہوں نے نسیم اللغات اور فرہنگ اقبال بھی مرتب کیں۔
* 28 فروری 1987ء کو جناب نسیم امروہوی کراچی میں وفات پاگئے۔
نسیم امروہوی کراچی میں مسجد آل عبا کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY