سفر ہو دھوپ کا اور وہ بھی پا پیادہ ہو۔خالد ندیم شانی

0
1152

سفر ہو دھوپ کا اور وہ بھی پا پیادہ ہو
کہیں ٹھہرنے کا پھر کس طرح ارادہ ہو

میں اس خیال سے خط کو نہ چھو سکا اب تک
لفافہ کھول کے دیکھوں…. ورق نہ سادہ ہو

بس آج وقت پہ سونے کی چاہ ہے مجھ کو
دعا کرو کہ تھکن خوف سے زیادہ ہو…

جہانِ ہذا میں لگتا ہے ہر قدم مجھ کو
کسی سے لوٹ کے آنے کا جیسے وعدہ ہو

پر از معانی و مفہوم چیزے دیگر ست
غزل وہ کیا ہے کہ الفاظ کا برادہ ہو

وہ” سِترِ لا ” ہی میں مستور ہو کے کامل ہے
بھلے بصورتِ سرمد وه بے لبادہ ہو

کوئی تو ایسا دکھاؤ فلک مزاجوں میں
مری طرح سے جو خالد زمین زادہ ہو

خالد ندیم شانی

SHARE

LEAVE A REPLY