قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے نارکوٹکس کنٹرول ترمیمی بل 2022ء منظور کرلیا۔ بل میں منشیات فروشی کے الزام پر سزائے موت کا قانون ختم کرکے 25 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے کا قانون ختم کرنے کا بل پیش ہوا۔ ممبر کمیٹی اور رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے سزائے موت ختم کرنے کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ یہ قانون اسلامی حدود ختم کرنے کی سازش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں بار بار توجہ دلا رہی ہوں کہ ہم آہستہ آہستہ اسلامی حدود کی سزائیں ختم کر رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی محمود بشیر ورک نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں اس حوالے سے سزائے موت دینے کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہوگا۔

رکن کمیٹی قادر مندوخیل نے مؤقف اپنایا کہ سزائے موت کے خاتمے سے اگر ہمارے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع ہوتی ہے تو ہمیں 16 ہزار ارب ڈالر کی سبسڈی ملتی ہے۔

قائمہ کمیٹی میں ایک ممبر کے اختلافی نوٹ کے ساتھ بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY