نفسِ سَرد کی تاثیر شبِ غم دیکھو
شمع کو تابہ سحر میں نے پگھلنے نہ دیا

بدگماں تھا کہ تپ ہجر نہ کم ہوجائے
اُس نے کافور مری لاش پہ ملنے نہ دیا

اس جفا پر یہ وفا ہے کہ تمہارا شکوہ
دل میں رہنے نہ دیا منہ سے نکلنے نہ دیا

شوق نے راہ محبت میں اُبھارا لیکن
ضعف نے ایک بھی گرتے کو سنبھلنے نہ دیا

اے شبِ ہجر ترا خلق پہ احسان ہوگا
حشر کے دن کو اگر تونے نکلنے نہ دیا

کسی صورت نہ بچا عشق کی رسوائی سے
کہ مجھے نام بھی غیرت نے بدلنے نہ دیا

داغ دہلوی

SHARE

LEAVE A REPLY