روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں گزشتہ روز ایک میٹرو اسٹیشن میں ہونے والے ایک حملے کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد گیارہ ہو گئی ہے۔
ماسکو حکام نے اس حملے کو ایک دہشت گردانہ کارروائی قرار دے دیا ہے۔ روسی حکام نے بتایا ہے کہ بم دھماکے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے روس کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے ایک اور میٹرو اسٹیشن پر ایک بم ناکارہ بنا دیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ ایک بیس سالہ شخص نے کیا، جس کا تعلق مبینہ طور پر وسطی ایشیائی ملک کرغیزستان سے ہے۔ پیر کی دوپہر ایک میٹرو ٹرین میں ہوئے اس حملے کی وجہ سے 45 افراد زخمی بھی ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ گزشتہ رات انہوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن حکومت اس کیس کی تفتیش میں ماسکو کے ساتھ تعاون کو تیار ہے۔
وائٹ ہاؤس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ اور پوٹن کے مابین ہونے والی اس گفتگو میں اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی کو فوری طور پر شکست دینا چاہیے۔ پوٹن نے سینٹ پیٹرز کے دورے کے دوران پیر کو کہا کہ اس حملے کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس حملے کے بعد شہر میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔













