کالی کملی کا ہے فرمان یہاں قتل ہوا
عشق کے نام پر انسان یہاں قتل ہوا
میں مدینے میں کھڑا ہوکے کروں گا ماتم
میرے آقا میرا ایمان یہاں قتل ہوا
اپنی مرضی کے معانی سے تراجم کرکے
ہاتھ میں لے کے ہے قران یہاں قتل ہوا
آپ کی آخری امت نے قیامت ڈھا دی
قہر سے امن کا دیوان یہاں قتل ہوا
آپ کے دین میں دہشت کی ملاوٹ کرکے
حشر کا آخری سامان یہاں قتل ہوا
کربلا چودہ سو سالوں سے لہو میں تر ہے
دین پر جس کا تھا احسان یہاں قتل ہوا
عُزیر رشید













