عشق کے نام پر انسان یہاں قتل ہوا۔۔عُزیر رشید

0
1289

کالی کملی کا ہے فرمان یہاں قتل ہوا

عشق کے نام پر انسان یہاں قتل ہوا

میں مدینے میں کھڑا ہوکے کروں گا ماتم

میرے آقا میرا ایمان یہاں قتل ہوا

اپنی مرضی کے معانی سے تراجم کرکے

ہاتھ میں لے کے ہے قران یہاں قتل ہوا

آپ کی آخری امت نے قیامت ڈھا دی

قہر سے امن کا دیوان یہاں قتل ہوا

آپ کے دین میں دہشت کی ملاوٹ کرکے

حشر کا آخری سامان یہاں قتل ہوا

کربلا چودہ سو سالوں سے لہو میں تر ہے

دین پر جس کا تھا احسان یہاں قتل ہوا

عُزیر رشید

SHARE

LEAVE A REPLY