فرزانہ ناز کی ہلاکت کے بعد جاری شاعروں ادیبوں کی تحریک جاری

0
340

پاکستان میں شاعرہ فرزانہ ناز کی ہلاکت کے بعد جاری شاعروں ادیبوں کی تحریک کے فعال کارکن احمد رضا راجہ نے بتایا ہے کہ فعال ادبی حلقہ چھ خوش خبر یوں کا منتظر تھا ۔۔۔ دو تو اکادمی ادبیات اور نیشنل بک فاؤنڈیشن سے آگئیں ۔۔۔ باقی رہ گئیں چار ۔۔۔

پہلی یہ کہ فرزانہ ناز کی ہلاکت کے سانحہ کی تحقیقات کرائی جائیں ۔۔۔ یہ مطالبہ صدر پاکستان ، چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے ہے ۔۔۔دوسری یہ کہ حکومت فرزانہ ناز کی فیملی کی معقول مالی امداد کے ساتھ ساتھ مکمل امدادی پیکیج بھی دے ۔ ایوان ِ صدر میں موجود ہمارے شاعر ، ادیب دوست مکمل خلوص ِ نیت سے اس پر نناوے فیصد کام تو کر چکے تھے کل تک ، آج کا مجھے علم نہیں۔۔۔تیسری جو کہ فرزانہ کے شوہر کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ فرزانہ کو سرکاری سطح پر شہید ِ کتاب کا خطاب دیا جائے

باقی رہ جانے والی چوتھی اور مجموعی طور پر چھٹی خوش خبری جس کا ادبی حلقہ شدت سے انتظار کر رہا ہے ، وہ چیف جسٹس ، وزیر اعظم اور متعلقہ وزارت سے متعلق ہے ، یعنی سرکاری ادبی اداروں میں کرپشن کا نوٹس لیا جائے

۔ بصورت دیگر شاعروں ادیبوں کا لٹریچر واچ گروپ عدالت تو جا ہی رہا ہے ۔جس میں جناب امداد آکاش ، محترمہ فرحین چوہدری ، برادرم ڈاکٹر ابرار عمر ، برادرم آصف نواز ، برادرم زاہد زیدی ، محترمہ رخسانہ سحر سمیت جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد کے کئی نام شامل ہیں۔

احمد رضا راجہ کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی اکادمی ادبیات محترم خالد اقبال یاسر کی معاونت بھی لٹریری واچ گروپ کو حاصل ہے۔جو بلا شبہ کرپٹ ادبی مافیا کے لئے خطرے کی ایک اور گھنٹی ہے۔ہم سب اس گروپ کے لئے دعا گو ہیں ، جو شہید ِ کتاب احتجاجی تحریک کے دوران اسلام آباد میں منعقدہ ایک میٹنگ میں بنایا گیا۔ میں ان کا شکر گزار ہوں کہ اس اہم اجلاس میںیں انہوں مجھے بلایا اور مشاورت میں شامل کیا بلکہ کئی مشورے بھی قبول کئے ۔

ہم سب کی دعائیں اس گروپ کے ساتھ ہیں ، قانونی جنگ لٹریری واچ گروپ ہی نے لڑنی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY