لندن میں روکے گئے پی آئی اے کے عملے نے ’جیو نیوز‘ سے خصوصی بات چیت میں بتایا ہے کہ 8 گھنٹے تک روکے جانے کے بعد رات بھر سو نہیں سکے ، طیارہ لینڈنگ سے قبل 15 منٹ تک فضا میں چکر لگاتا رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ کسٹم حکام نے ایک ایک چیز کی تلاشی لی، جس کے دوران جہاز کو ادھیڑ کر رکھ دیا گیا، جہاز کو ایسی تلاشی کے بعد فوراً بھیج دینا خطرناک بھی ہوسکتا تھا۔

عملے نے شکوہ کیا کہ پی آئی اے کے اعلیٰ حکام نےخیریت تک دریافت نہیں کی، خیال تھا کہ اس اذیت سے گزرنے پر حکام اظہار ہمدردی کریں گے۔

پی آئی اے عملے کے مطابق کسٹم حکام نے ہم سے صرف طیارے میں ڈیوٹی سے متعلق سوالات کیے۔

انہوں نے بتایا کہ کل پاکستان واپس جانا ہے، واپسی سے قبل پاسپورٹ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم سمجھ نہیں آیا کہ ایسا سلوک کیوں کیا گیا۔

طیارے پر مجموعی طور پر عملے کے 16 ارکان موجود تھے،عملے نے مطالبہ کیا کہ غلط اطلاعات دے کر قومی ایئر لائن کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

’جیو نیوز‘ کے نمائندے طارق ابوالحسن کے مطابق قومی ایئرلائن ذرائع کے مطابق لندن میں پی آئی اے عملے کے پاسپورٹ ابھی تک برطانوی امیگریشن حکام کےپاس ہیں ۔

برطانوی حکام نے تفتیش کےبعد پاسپورٹ دیے بغیرعملے کو ہوٹل جانےکی اجازت دی۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پی آئی اے حکام پاسپورٹوں کی واپسی کے لیے امیگریشن حکام سےرابطےمیں ہیں۔

’جیو نیوز‘ کے نمائندے سعید نیازی کے مطابق لندن میں محصور پی آئی اے کے عملے کو کل پاسپورٹ ملنے کا امکان ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY