سابق قطری وزیراعظم کابیان ریکارڈ کرنے 2جے آئی ٹی ارکان دوحہ میں

0
71

اناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے اثاثوں اور مالی معاملات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے 2 ارکان سابق قطری وزیراعظم حماد بن جاسم الثانی کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے قطر میں ہیں۔

ذرائع کے مطابق قطر جانے والے جے آئی ٹی ارکان میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے عرفان نعیم منگی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران رشید شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں ارکان قطر ایئرویز کی فلائٹ کیو آر 633 کے ذریعے دوحہ روانہ ہوئے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان آج ہی واپس آجائیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جے آئی ٹی ارکان کی قطر روانگی کی خبریں اس وقت گردش کرنے لگیں جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ 6 رکنی جے آئی ٹی ٹیم کے صرف 4 ارکان ہی وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز سے تفتیش کررہے ہیں، جو آج چھٹی مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

سابق قطری وزیراعظم کے معاملے نے اُس وقت سر اٹھایا تھا جب نومبر 2016 میں سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سامنے شریف خاندان کے وکلاء نے حماد بن جاسم الثانی کا خط پیش کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ میں پیش کیے گئے حماد بن جاسم بن جابر الثانی کے تحریری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے والد اور نواز شریف کے والد کے درمیان طویل عرصے سے کاروباری تعلقات تھے، میرے بڑے بھائی شریف فیملی اور ہمارے کاروبار کے منتظم تھے۔’

خط کے مطابق ‘1980 میں نواز شریف کے والد نے قطر کی الثانی فیملی کے رئیل اسٹیٹ بزنس میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ظاہر کی، میرے خیال میں 12 ملین درہم نواز شریف کے والد نے ہمارے کاروبار میں لگائے، جو انھوں نے دبئی میں اپنے بزنس کو فروخت کرکے حاصل کیے تھے۔’

حماد بن جاسم بن جابر الثانی نے خط میں مزید کہا کہ ‘لندن کے 4 فلیٹس (16، 16اے ، 17 اور 17 اے ایون فیلڈ ہاؤس، پارک لین ، لندن) دو آف شور کمپنیوں کے نام رجسٹرڈ تھے، ان آف شور کمپنیوں کے شیئر سرٹیفکیٹ قطر میں موجود تھے، لندن کے فلیٹس قطر کے رئیل اسٹیٹ بزنس کے منافع سے خریدے گئے اور دونوں خاندانوں کے تعلقات کی بناء پر یہ فلیٹس شریف خاندان کے زیر استعمال تھے جس کا وہ کرایہ دیتے تھے۔’

جس کے بعد حماد بن جاسم الثانی کے خط پر تنقید کا آغاز ہوگیا اور یہ کہا گیا کہ شریف خاندان پاناما کیس سے بچنے کے لیے قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے۔

بعدازاں جنوری 2017 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لاجر بینچ کے سامنے وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز نے دیگر دستاویزات کے ساتھ حماد بن جاسم الثانی کا ایک اور خط بھی پیش کیا تھا۔

22 دسمبر 2016 کو لکھے گئے مذکورہ خط میں شہزادہ جاسم کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے پہلے خط پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں دوسرا خط تحریر کیا۔

خط کے متن کے مطابق میاں شریف نے 1980 میں ایک کروڑ 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی، یہ سرمایہ کاری نقد کی صورت میں کی گئی، 2005 میں اس سرمایہ کاری کے ضمن میں ان پر شریف خاندان کے 80 لاکھ ڈالر واجب الادا تھے، جنھیں نیلسن اور نیسکول کمپنی کے شیئرز کی صورت میں ادا کیا گیا، نیلسن اور نیسکول کے بیرئیر سرٹیفیکیٹ کی ادائیگی لندن کے کاروباری شخصیت وقار احمد کے ذریعے کی گئی۔

تاہم قطری خطوط کے حوالے سے شریف خاندان پر ہونے والی تنقید میں کمی نہ آئی جبکہ معروف قانون دانوں نے خیال ظاہر کیا کہ قطری شہزادہ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کو سپریم کورٹ میں ’مطلوبہ شواہد‘ پیش کرنے ہوں گے اور پاناما پیپرز کیس میں خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا ورنہ ان کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY