‘پاکستان میں ایک لاکھ 26 ہزار افراد ایڈز سے متاثر’

0
952

پاکستان میں اس وقت ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ملک میں ایڈز کے شکار افراد کی تعداد 165000 ہے جبکہ ان میں سے صرف 23757 افراد نے متعقلہ سینٹر میں اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کا کہنا ہےکہ ایڈز کا مرض دنیا بھر میں صحت کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے اب تک ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

صرف گذشتہ برس میں ایک کروڑ افراد ایڈز کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔

ابھی تقریباً تین کروڑ ستر لاکھ ایسے ہیں جو اس وائرس کا شکار ہیں ان میں سے 70 فیصد افریقہ میں موجود ہیں۔ 18 لاکھ ایسے ہیں جو سنہ 2017 میں اس سے متاثر ہوئے۔

اس مرض کے پھیلنے کا آغاز سنہ 1980 میں ہوا۔

آج اس مرض کے خلاف آگاہی پھیلانے کا دن ہے اور ہم یہاں اس مرض کے بارے میں کچھ ایسی چیزوں پر بات کریں گے جو کہ غلط ہیں۔

ایک طویل عرصے تک غلط تصور تھا جس کی وجہ سے ان سے امتیازی سلوک برتا جاتا تھا۔ اس کے باوجود کہ اس حوالے سے بہت سی آگاہی کی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ سنہ 2016 میں برطانیہ میں 20 فیصد لوگ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ایچ آئی وی ایڈز تھوک اور متاثرہ مریض کی جلد سے یعنی اسے چھو لینے سے بھی پھیل جاتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی کو چھونے سے، آنسوؤں سے، پسینے سے، تھوک سے یا پھر پیشاب سے منتقل نہیں ہوتا۔

کن صورتوں میں یہ وائرس منتقل نہیں ہوتا:

ایک ہی ہوا میں سانس لینے سے
معانقہ کرنے سے، بوسہ لینے سے یا ہاتھ ملانے سے
ایک دوسرے کے کھانے کے برتن استعمال کرنے سے
نہانے کے لیے ایک شاور استعمال کرنے سے
ایک دوسرے کی ذاتی اشیا استعمال کرنے سے
جم میں ایک ہی مشین استعمال کرنے سے
ٹائلٹ کی سیٹ کو چھونے سے، دروازے کے ہینڈل کو چھونے سے

SHARE

LEAVE A REPLY