روس نے امریکا کے 755سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا۔ روسی صدر پیوٹن کہتے ہیں روس امریکا تعلقات میں جلد بہتری کی امید نہیں ہے۔
مقامی چینل کو انٹرویو میں روسی صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سے زائد امریکی سفارتی عملہ روس میں کام کر رہا ہے۔
755 سفارتی اہلکاروں کو اب اپنا کام روک کر جانا ہوگاہم نے بہت انتظار کیا کہ صورتحال بہتر ہوجائے لیکن ایسا جلد ہوتا نظر نہیں آرہا۔
755 امریکی سفارتکاروں کے واپس جانے سے دونوں ممالک میں سفارتی مشن کے عملے کی تعداد برابر یعنی455ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ روس کا یہ فیصلہ امریکی کانگریس کے جمعرات کو روس، شمالی کوریا اور ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بل منظور ہونے کے بعد آیا ہے۔
پیوٹن نے روسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا کہ امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں میں ”ایک ہزار سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں”، اور یہ کہ ”755 اہل کار روس میں اپنی سرگرمیاں بند کریں”۔
روسی سربراہ نے کہا کہ روس امریکہ کے خلاف بدلے کی نوعیت کے اضافی اقدامات کرے گا، جس کے بارے میں کانگریس نے نئی تعزیرات کی منظوری دی ہے، لیکن، بقول اُن کے ”ابھی تک میں اس کے خلاف ہوں”۔
روس نے کہا ہے کہ یکم ستمبر تک سینکڑوں امریکی اہل کاروں کی ملک بدری کے بعد، دونوں ملکوں میں سفارت کاروں کی تعداد یکساں، یعنی 455 رہ جائے گی۔
اس سے قبل، روسی معاون وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ‘اے بی سی نیوز’ نے ‘دِس ویک شو’ کو بتایا کہ ”یہ جوابی اقدام طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے”۔













