شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کے حوالے سے اکیڈمی ادبیات پشاور میں” سائنسی افکار اور اقبال” کے موضوع پر ایک سمینار کا اہتمام کیا گیا۔
اور ہم رسالپور سے پشاور یوں شوق سے گئے کہ ایک تو یہ ہمارے محبوب شاعر کے حوالے سے تقریب تھی۔دوسرا یہ کہ کاروان حوا کی چئیر پرسن اور ہماری میر کارواں بشری فرخ جن کو حال ہی میں پرائڈ آف پرفارمنس ملا ہے۔ مہمان خصوصی تھیں۔پھر کلیدی مقرر ڈاکٹر فصیح الدین اشرف تھے۔جو اقبال فہمی واقبال شناسی کا مستند حوالہ ہیں۔ کئ کتابوں کے مصنف ہیں ۔شاعر ہیں۔اردو، پشتو، انگریزی تین زبانوں میں لکھتے ہیں ۔
۔ریسرچ لائبریری کے آغاز میں ایک دوپرگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ان کے اخبار خپل واک میں ایک عرصے تک لکھتی رہی۔اور وہ ایک بڑی بہن کی طرح مجھے عزت واحترام سے نوازتے رہے۔
ساڑھے تین بجے اکیڈمی ادبیات پہنچے تو سہ پہر پر شام کا گماں ہورہا تھا۔یہ ایک ابرآلود سرد شام تھی۔مگر ہال میں کثیر تعداد میں حاضرین کی موجودگی ، زوق وشوق کی حدت اور گرم جوشی نے سردی کے احساس کو زائل کررکھا تھا ۔تلاوت کلام پاک کے بعد باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا۔
اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر فخر الاسلام نے کی۔مہمان خصوصی بشری فرخ صاحبہ تھیں۔ان کے ساتھ استاد الاساتذہ ڈاکٹر فقیرا خان فخری اور قندھار آفریدی تشریف فرما تھے۔اورساتھ ہی میزبان خان بادشاہ نصرت صاحب تھے۔
قدرت اللہ خٹک نے تمام مہمانان گرامی کا تفصیلی تعارف کروایا۔خان بادشاہ نصرت نے اس دن کے حوالے سے مختصر خطاب کیا۔اور سٹیج پر رکھی اپنی نشست پر پروفیسر مشرف مبشر جو میرے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ان کو دعوت دی کہ سٹیج پر تشریف لائیں۔پروفیسر مشرف مبشر کئ کتابوں کی مصنفہ ہیں۔فرانٹیر کالج پشاور میں پروفیسر اور گورنمنٹ کالج ہری پور کی پرنسپل رہ چکی ہیں ۔ اسسٹنٹ ۔ریذیڈنٹ ڈئرایکٹر اکیڈمی ادبیات کی اس خوش اخلاقی نے متاثر کیا۔
یہ حقیقت ہے۔کہ پشاور اکیڈمی ادبیات کے محمد علی صاحب ہوں۔یا خان بادشاہ نصرت صاحب ان کا اخلاق اور منکسرالمزاجی متاثر کرتی ہے۔
پروفیسر اسلم تاثیر پروفیسر ڈاکٹر یار محمد مغموم ۔پروفیسر ڈاکٹر روبینہ یاسمین نے مختصر خطاب کیا۔جب کہ ڈاکٹر خادم ابراہیم خادم نے منظوم خراج تحسین پیش کیا۔
بشری فرخ نے اپنی نظم سنای۔کلیدی مقرر ڈاکٹر فصیح الدین نے موضوع کے ساتھ خوب انصاف کیا۔اوراقبال کا فارسی کلام سنایا۔صاحب صدر ڈاکٹر فخر الاسلام کی مختصر تقریر بھی خوب رہی۔پروفیسر ڈاکٹر فقیرا خان فقری نے اپنی نظم بہت عمدہ ادائیگی کے ساتھ سنای۔قدرت اللہ خٹک نے اختتامی کلمات کہہ کر چاے کی دعوت دی۔
ڈاکٹر فصیح الدین اشرف کو اپنی خود نوشت ” بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں ” پیش کی۔پروفیسر مشرف مبشر نے اپنا سفرنامہ” ولایت چلتے ہیں” تمام مہمانان گرامی کو پیش کیا۔جب کہ میں نے ڈاکٹر فخر الاسلام اور پروفیسر ڈاکٹر فقیرا خان فقری کو اپنی پہلی تصنیف” کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی ” پیش کی۔اور گھر کی راہ لی۔کہ واپس رسالپور جانا تھا۔ایک خوشگوار شام کی یادیں لے کر، اور ایک حسرت اور تمنا لے کر۔کہ کاش علامہ اقبال کے پیغام کو مشعل راہ بنالیتے۔تو اس منزل کو پالیتے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا۔ کاش۔













