آصف جیلانی کی وفات تین اپریل 2023 کو ہوئی تھی

0
2044

نشریات اور صحافت کی دنیا کو چند ہی ہفتوں میں دوسرا بڑا نقصان ہوا ہے، راشد اشرف کے بعد آصف جیلانی بھی دار فانی سے دارالبقا کو سدھارے

آصف جیلانی کی وفات تین اپریل 2023 کو ہوئی انکی عمر ۸۹ سال تھی اور دو سال سے کینسر میں مبتلا تھے

انااللہ و انا الیہ راجعون

جنگ لندن اور بی بی سی اردو کے علاوہ انہوں نے کچھ عرصہ عالمی اخبار میں بھی کالم نگاری کی

آصف جیلانی کی نماز جنازہ اور تدفین جمعرات چھ مارچ کو لندن میں ادا کی گئی

بی بی سی اردو لندن میں طویل عرصہ گزارنے والےشاہد ملک نے آصف جیلانی کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے

جامعہ ملیہ دہلی کے استاد مولانا عبدالواحد سندھی کے فرزند اور ہمارے بی بی سی اردو کے سینئر ساتھی آصف جیلانی ہم میں نہیں رہے۔
1952ء میں روزنامہ امروز سے صحافتی کیرئر کا آغاز کرنے والے آصف صاحب انعام عزیز مرحوم کی ادارت میں جنگ لندن کے اولین نیوز ایڈیٹر بھی رہے۔ 1965ء کی لڑائی کے دوران دہلی میں، جہاں وہ روزنامہ جنگ کے نامہ نگار کی حیثیت میں مقیم تھے، انہیں رشمن ملک کے شہری کے طور پر گرفتار کر کے تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا تھا۔
بطور بی بی سی جرنلسٹ نوجوان ساتھیوں سے حوصلہ افزائی کا رویہ رکھتے ہوئے، دو باتوں پر ہمیشہ زور دیتے رہے۔ اول، تازہ ترین خبر۔ دوم، آسان فہم زبان۔ کئی دفعہ ہوا کہ صبح کی ٹرانسمیشن میں ہم ایک ساتھ اسٹوڈیو پہنچے۔ مگر میری ساڑھے نو منٹ کی خبروں کے دوران آصف صاحب کیوبیکل میں جا کر دو تین تازہ ترین خبریں نکال لاتے جو فوری طور پر ترجمہ کرکے ‘جہاں نما’ میں بریک کی جاتیں۔
1990ء کی دہائی کی ابتدا میں، جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھر رہا تھا، تاجکستان کے عوامی اجتماع میں رات گئے ترنم سے پڑھی گئی اقبال کی نظم ہم تک پہنچی تو ہم نے باہمی مشاورت سے جہاں نما کی سگنیچر ٹیون کی بجائے ٹرانسمیشن کا آغاز اسی ریکارڈنگ سے کیا تھا. پہلے انفرادی صدا: ‘از خواب گراں، خواب گراں، خواب گراں خیز’ اور پھر ہزاروں کے مجمع کی اواز ‘از خواب گراں خیز’.
اللہ تعالی آصف جیلانی صاحب کو بلند درجات سے نوازے۔ آمین
SHARE

LEAVE A REPLY