اسلام اور حقوق العباد (43)۔۔ شمس جیلانی

0
61

ہم گزشتہ مضمون میں روزوں کی افطاری تک پہونچے تھے ا ور اس میں ہم نے یہ بتایا تھا حضور(ص ) نے فرمایا کہ“ اگر کوئی ایک کھجور یا ایک گلاس پانی سے بھی افطار کرا ئے گا توا س کو بھی ا تنا ہی ثواب اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے پاس سے ثواب عطا فرمائے گاجتنا کہ روزے دار کو ملے گا“اسی دوران 2 رمضان المبارک کو ہماری ہمشیرہ کا انتقال ہوگیا اور ہمیں اپنا کالم لکھنے کا وقت نہیں ملا ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں۔ اب کہ رمضان رخصت ہو رہا ہے۔ جو بھی دوچار دن باقی ہیں وہ بھی بڑے اہم ہیں ۔ ان میں بھی جو کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہوں یا غلطی کر گئے ہوں ؟تو ابھی ا ن کے پاس توبہ اورعمل صالح کرنے کا ٹھوڑاسا وقت باقی ہے۔اور وہ اس سے فائدہ اٹھاکرا پنی نجات اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کرا سکتے ہیں؟ کیونکہ وہ کسی کو بھی سزا دینے پر خوش نہیں ہوتا اور معاف کرنا پسند فرماتا ہے۔ چونکہ یہ مہینے حضرت علی (ع)کی شہادت کا مہینہ ہے۔ لہذا موقع کی مناسبت سے ہم ا ن کی وہ آخری وصیت ذیل میں پیش کرنے ک شرف حاصل کر رہے ہیں ۔ جس کا ایک ایک لفظ بہت ہی اہم ہے۔ اور اس میں ا نہوں نے “ حقوق العباد“ پر بہت زیادہ زور دیا ہے جس کو انہو ں نے حضور (ص) کے ارشادات عالیہ سے ثابت بھی کیا ہے۔ اسے آپ غور سے پڑھیں تو وہ راز ظاہر ہونگے جو کہ ایک مسلمان کی بخشش کے لیے کافی ہیں۔ جبکہ حضور (ص)کی طرف اس مہینہ بارے جہاں اس کی بہت سے برکتیں بیان ہوئی ہیں وہیں یہ وعید بھی ہےکہ “ وہ ہلاک ہوا جس کو رمضان کا آخری عشرہ ملا اور اس نے اپنی مغفرت نہیں کرالی۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے بہرہ ور ہونے کی تو فیق عطا فرمائے ۔آمین
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم ہ
وصیت حضرت علی علیہ السلام
یہ وصیت علی بن ابی طالبؑ نے کی ہے۔ وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں، وہ واحد اورلا شریک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول (ص)ہیں، اس نے انہیں (ص)ہدا یت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجاتاکہ وہ (ص)اسے سب دینوں پر غالب کرے خواہ وہ مشرکین نا پسند ہی کریں، بلا شبہ میری نماز میری قر بانیاں، میرا جینا،میرا مر نا اللہ رب العالمین کے لیئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ ہی مجھے حکم دیا گیا اور میں اول مسلمین ہوں۔اے حسن ؑ اے میرے تمام بیٹوں! ؑ اور جس تک میری یہ تحریر پہونچے میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کر نے کی وصیت کر تا ہو ں،جو تمہارا رب ہے اور تم فرمانبرداری کی حالت میں ہی مرنااور سب اللہ کی رسی کو تھام لو پرا گندہ مت ہو تا۔ میں نے حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ماتے سنا ہے کہ “ بلا شبہ آپس کے تعلقات کی اصلاح عام نماز اور روزے سے افضل ہے“اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھوِ اللہ تم پر حساب آسان کر دے گااور یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرواور انکے مو نہوں کو ہلاک نہ کرو اور نہ ان کے مال تمہاری موجودگی میں ضا ئع ہو ں،اور اپنے پڑوسیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، بلا شبہ وہ تمہا رے نبی ا(ص) کی وصیت ہیں آپ ہمیشہ ان کے متعلق وصیت فرما تے رہے، حتیٰ کے ہم کو خیال گزرا کہ آپ ان کو عنقریب وارث قرار دیدیں گے،اور قر آن کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، اور“ کوئی دوسرا (اس پر)عمل کر نے میں تم سے سبقت نہ کرے“اور نماز کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، وہ تمہارے دین کا ستون ہے اور اپنے رب کے گھر کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، جب تک تم زندہ ہو وہ تم سے خالی نہ ہو،اور اگر اسے چھوڑ دیا گیاتو تم ایک دوسرے کو نہ دیکھو گے، اور رمضان کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو،بلا شبہ اس کے روزے دوزخ کے مقابلہ میں ڈھال ہیں اور مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ راہِ خدا میں جہاد کر نے کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو اور زکات کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، بلا شبہ وہ اللہ کے غضب کو ٹھندا کرتی ہے اور اپنے نبی (ص) کی امان کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، اور آپس میں ظلم مت کرواوراپنے نبی (ص)کے اصحاب کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، بلا شبہ رسول اللہ (ص) نے ان کے بارے میں وصیت کی ہے اور فقرا ء اور مسا کین کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرواور انہیں اپنے معاش میں شریک کرو، اور اپنے غلاموں کے بارے میں بھی اللہ سے ڈروبلا شبہ رسول اللہ (ص) نے جو آخری بات فر مائی وہ یہ تھی کہ “ میں تم کو دو کمزوروں یعنی تمہاری “ بیویوں اور غلاموں“ کے بارے میں وصیت کر تا ہوں، نماز کا خیال رکھواور اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے خوفزدہ نہ ہونا، جو تمہارا قصد کریگا اور تمہارے خلاف بغاوت کر یگا وہ تمہیں اس کے مقابلہ میں کفا یت کر ے گا اور جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، لوگوں سے اچھی با تیں کرو، اور امر با لمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی اچھی باتوں کی تلقین اور بری باتوں سے منع کرنے کا عمل) ترک نہ کرو، ورنہ وہ تمہارے برے آدمیوں کو حکومت دیدے گا،پھر تم دعا کرو گے اور وہ قبو ل نہ ہو گی، تم پر ایک دوسرے پر خرچ کرنااور ایک دوسرے سے تعلق رکھنالازم ہے، اور ایک دوسرے کو پیٹ دکھانے اور دوسرے سے تعلقات منقطع کرنے اور پرا گندہ ہو نے سے بچو،اور نیکی اور تقویٰ کے کا موں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو،اور اللہ سے ڈرو، بلا شبہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے، اہلِ بیت، اللہ تمہارامحافظ ہو اور تمہارا نبی (ص) تمہارا نگہبان ہو، میں تمہیں اللہ کے سپرد کر تا ہوں اور میں تمہیں اسلام علیکم ورحمہ اللہ کہتا ہوں۔
اس کے بعد آپ لا الہ اللہ کا ورد فر ماتے رہے،پھر کچھ نہیں فرمایاحتی ٰ کہ 21رمضان 40 ھ کو آپ ؑ نے دا عی اجل کو لبیک کہا۔اناللہ و انا الیہ راجعون

SHARE

LEAVE A REPLY