اکتوبر دو ہزار بائیس میں موجودہ ڈی جی ریڈیو کے آنے کے بعد سے پورے ریڈیو پاکستان اور اسکے ہر شعبے اور نشریاتی مرکز کی حالت ایسے ہے جیسے مریض مصنوعی نظام تنفس پر ہو۔ لاہور ریڈیو جیسا تاریخی نشریاتی مرکز بھی اس صورت حال سے مُبرا نہیں
ریڈیو پاکستان لاہور کی حالیہ کاروباری صورتحال بہت ہی بد ترین ہے۔ پہلے ریڈیو لاہور ایک بہت بڑی ادارہ تھا جو خوبصورت پروگرامز، تنظیم شدہ اسٹاف اور مستحکم ٹرانسمیشن کے ساتھ شناخت یافتہ تھا۔ لیکن اب تک، اس کی حالت بہت ہی بد ترین ہوگئی ہے۔
کم فنڈز اور حکومت کی کم توجہ کی وجہ سے ریڈیو لاہور کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملازمین کو لمبے عرصے سے تنخواہ نہیں مل رہی ہیں اور ان کو گھریلو ضروریات پورے کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
براڈکاسٹرز بھی مسئلے کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کو کم پروگرامز، کم اسٹاف، عدم تسلیم، بےکار اور ضعیف ٹرانسمیشن کے روبرو ہونا پڑ رہا ہے۔ سننے والوں کی شکایات بھی ہیں کہ ریڈیو لاہور پر پروگرامز کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔
پہلے ریڈیو لاہور ایک ممتاز ادارہ تھا، لیکن اب اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی ہے۔ کم فنڈز اور حکومت کی کم توجہ کے باعث اس کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
براڈکاسٹرز بھی اس سخت مقابلے کا شکار ہیں۔ کم پروگرامز، کم اسٹاف، تذلیل کا سامنا، بے نقابتا، اور بے تاثیری کی وجہ سے وہ افسردہ ہو رہے ہیں۔ لسنرز میں بھی رنج و غم کی لہراں ہے، جب وہ ریڈیو لاہور پر معمولی سے کم پروگرامز دیکھتے ہیں اور معیاری ٹرانسمیشن کا عدم موجودگی محسوس کرتے ہیں۔
یہ حالات بہت دلدار ہیں، کیونکہ ریڈیو لاہور کو اپنی تجربات، مہارتوں، اور خدمات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ہمیشہ تقدیر سے چرچا کرنے والے براڈکاسٹرز کی آوازوں کو آپ میں سے بہت سے سننے والوں نے بھی سنا ہوگا۔ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ریڈیو لاہور کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا، کیا حکومت ان کی خوابوں اور مجاہدتوں کی اہمیت کو سمجھے گی؟ ہمارے براڈکاسٹرز اور لسنرز کا احساس، معاشرتی رسالوں کو متاثر کرنے کیلئے ضروری ہے
ریڈیو پاکستان لاہور کے براڈکاسٹرز کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان کی کارکردگی، ترقی، اور رسائل کو متاثر کر رہے ہیں۔ آخری کچھ وقت سے براڈکاسٹرز کو کم پروگرامز کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے، اس کے علاوہ ملازمین کی تعداد کا بھی کم ہونا ان کی صلاحیتوں اور توانائی کو دبا رہا ہے۔
براڈکاسٹرز کیلئے تنخواہوں میں بہتری کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور معاشی آرام کی فقدان کی وجہ سے اپنے گھریلو ضروریات کو پورا کرنے میں دشواریاں محسوس کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، براڈکاسٹرز کو ترجیحات اور مواد کی کمی کا سامنا بھی ہورہا ہے جو ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ ٹرانسمیشن کی کمی، مستقل خرابیاں، اور نامکمل آفس سہولیات بھی براڈکاسٹرز کی تکنیکی صلاحیت کو متاثر کررہی ہیں
ریڈیو پاکستان لاہور کبھی ایک بہت ہی اہم ادارہ تھا جو لوگوں کو معلوماتی، تعلیمی اور سماجی بہبود کیلئے ایک گیارہویں دنیا کے بڑے براڈکاسٹنگ مراکز میں سے ایک تھا۔ اس کے پروگرامز علم و عقل کو بڑھانے، سیرتی مناظر پیش کرنے، مختلف تحریکوں اور سماجی مسائل پر آگاہی پھیلانے میں کامیابی حاصل کرتے تھے۔
ریڈیو لاہور کے پروگراموں میں علمی موضوعات، سیرتی محفلیں، سماجی تقسیمات، اور ادبی مناظر شامل تھے جو لسنرز کو تفکری، تعلیمی، اور سماجی ترقی کی راہ دکھاتے تھے۔ ریڈیو لاہور کے براڈکاسٹرز اپنی آواز کے ذریعے سماجی اصلاح، اخلاقیاتی تعلیم، اور معاشرتی تبدیلیوں کے لئے اہم کردار ادا کرتے تھے۔
لیکن بدقسمتی سے، حالیہ دنوں میں ریڈیو پاکستان لاہور کی صورتحال بہت متفکر ہوگئی ہے۔ تنخواہوں کی کمی، حکومت کی کم توجہی، پروگراموں میں کمی، اور معیاری ٹرانسمیشن کی عدم موجودگی کی وجہ سے براڈکاسٹرز بھی افسردہ ہوگئے ہیں۔ لسنرز بھی پروگراموں کی کمی اور بے تاثیری کے سبب سنتے ہیں اور ان کی شکایات آتی رہتی ہیں کہ کیوں ایف ایم ایک سو ایک لاہور پر پروگرامز کی کمی ہوگئی ہے۔
یہ حالات دل کو دکھاتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان لاہور کو دوبارہ وہ مقام حاصل کرنا ہوگا جو یہ پہلے رکھتا تھا۔ حکومت کو ان براڈکاسٹرز کی قیمت اور مجاہدت کی اہمیت سمجھنی ہوگی۔ ریڈیو لاہور کے براڈکاسٹرز اور لسنرز کا جذباتی جزبات کو متاثر کرنے کا احساس ضروری ہے
روبینہ وجاہت













