آگ،اہم دستاویزات جل گئیں,عالم آرا وینکور

0
83

عمارت نیئی ہو یا پرانی ہمارے ملک میں جن دستاویزات کو جلنا ہوتا ہے وہ جل جاتی ہیں ۔اور یہ واقعہ ہمیشہ اُن عمارتوں میں پیش آتا ہے جہاں اہم دستاویزات موجود ہوتی ہیں اور اُنہیں استعمال کیا جانا ہوتا ہے کسی مقدمے میں ۔ یا گواہی کے لئے ۔بس آگ تلاش میں رہتی ہے کہ کہاں جاؤں کس آشیانے کو جلاؤں ۔تاکہ یہ کرپٹ لوگ بچ سکیں ۔یہ آگ پنجاب کے اہم دفتروں میں بھی لگتی ہے اور سندھ کے اہم دفتروں میں بھی ،لیکن اس کا سبب پتہ نہیں چلتا اور نہ ہی کبھی یہ عُقدہ کھلتا ہے کہ کتنا اور کیا کیا ریکارڈ جل گیا ۔جبکہ دنیا الیکٹرانک ہو گئی ہے کوئی بھی چیز کہیں بھی لکھی گئی ہو پا تال سے نکال لاتی ہے لیکن ہمارے لوگ خاص کر جو بڑے عہدوں اور اہم دفتروں میں موجود ہیں ابھی تک سولہویں صدی میں جی رہے ہیں ۔صرف اور صرف خود کو اور اپنی املاک اور کرپشن کو بچانے کے لئے ۔ یہ آگ زیادہ تر زمینوں سے متعلق اور نوکریوں سے متعلق یا جہاں گھپلوں کی بھرمار ہو وہاں کا بوجھ برداشت نہ کرنے پر بھی لگ جاتی ہے ،یا کبھی کوئی بڑا پھنس جائے تو اُس کو بچانے کے لئے بھی یہ آگ لگ جاتی ہے تاکہ جو کچھ کر لیا وہ بھسم ہو جائے اور انصاف کو کچھ نہ ملے ۔

ہم وہ قوم ہیں جن کے پاس پورا ضابطئہ حیات موجود ہے ،سیرتِ نبی (ص)موجود ہے ،زندگی گزارنے کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں احکامات نہ ہوں ۔ہم وہ خوش قسمت قوم ہیں جن کے پاس چودہ سو سال پہلے پورا پورا ضابطئہ حیات موجود تھا ۔علم کا خزانہ موجود تھا جب علم کہیں بھی نہ تھا ،اور افسوس کہ ہم وہ بد قسمت قوم ہیں جو اپنی تعلیمات سے کوسوں دور ہو گئے ہیں اور اپنی اقدار کو ہی نہیں اپنی شناخت کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں ۔لیکن اُمید ہے کہ ہم سوچینگے سنبھلینگے اور پھر واپس آئینگے اپنے علم کی طرف اپنے دین کی طرف اپنی اقدار کی طرف کہ اسی میں نجات ہے اور اسی میں فلاح ہے ۔حق اور سچ جب تک زندگیوں میں جاری و ساری نہیں ہوگا یہ آگ بھی لگتی رہے گی اور یہ کرپشن بھی چلتے رہینگے ،کیونکہ صرف اور صرف دنیا سامنے ہے ،آخرت کی کسی کو فکر نہیں کہ اصل زندگی وہ ہی ہوگی اللہ ہم سب پر رحم فرمائے آمین

کہتے ہیں ترقی یافتہ قومیں وہ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ملک سے کرپشن کو جھوٹ اور بے ایمانی کو سب سے پہلے نشانہ بنایا اور کوئی بھی ایسا بندہ جس پر کبھی کسی کی اُنگلی اُٹھی وہ اُسے آگے آنے ہی نہیں دیتے حکومتی عہدے تو دور کی بات ۔لیکن ہمارے یہاں بد قسمتی سے جو جتنا بڑا جھوٹا اور بد دیانت ہے وہ اتنے ہی بڑے عہدے کا حق دار اور اُس پر براجمان ہے ۔پھر طُرہ یہ بھی ہے کہ وہ اُس عہدے کو نہ چھوڑنے پر آمادہ ہوتاہے اور نہ ہی خود اپنی صفائی دینے کو تیار ہوتا ہے بلکہ کہتا پہے کہ اگر میری خرابی ہے تو تم ثابت کرو

،ہم ابھی تک مقدموں میں گھرے ہوئے ہیں دنیا میں کیا ہو رہا ہے اسلامی ممالک کس مشکل میں گرفتار ہیں کوئی نہ سُن رہا ہے نہ ان مظالم پر آواز اُٹھا رہا ہے ،مسلمان بچے بڑے بوڑھے جوان کیوں مارے جا رہے ہیں کیا قصور ہے کسی کو پتہ نہیں ۔بلکہ اب تو ظلم اتنا ہے کہ خبریں تک ایک دفعہ دکھا کر دوبارہ نہیں چلائی جاتیں ۔یہ آپس کی لڑائیاں کہاں لے جائینگی اور یہ خاموشیاں ہمیں کتنی ازیت دینگی کسی کو بھی احساس نہیں ہے ۔کہ جب یہ مظلوم خون رنگ لائیگا تو ایسا شور اُٹھے گا کہ کان پھٹ جائینگے اور زبانیں خاموش ہو جائینگی ۔بے حسی صرف مسلمانوں کے لئے کیوں ،شاید اس لئے کہ ہم خود بھی بے حس ہوگئے ہیں ،،،،،

خان صاحب کی پارٹی میں لوگ شامل ہو رہے ہیں اچھی بات ہے مگر ہمیں خدشہ ہے کہ خان صاحب کی پارٹی ان لوگوں کی سازشوں کا شکار نہ ہو جائے چاہے پی پی پی ہو یا نون لیگ یہ کبھی بھی یا ان کے ورکر جو پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں ان سے مُخلص نہیں ہو سکتے ۔خان صاحب کو اپنے اُن ورکرز کا خیال رکھنا چاہئے جو انکے ساتھ شروع سے ہیں ۔کیونکہ شُنید ہے کہ کچھ لوگ پارٹی میں اسے خراب کرنے اور اس میں تفرقہ ڈالنے کو شامل ہونگے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ہم نے زیادہ تر دیکھا ہے کہ لوگ پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں جاتے ہیں وہاں کی تمام کارستانیاں دیکھتے ہیں اور پھر پارٹی چھوڑ کر پرانی پارٹی میں آجاتے ہیں، اور وہ وہ اندر کی باتیں بتاتے ہیں کہ بس سُنتے جائیے ۔۔کچھ پرانی بات نہیں ایک نون کے منجھے ہوئے بزرگ سیاست دان گئے تھے پی ٹی آئی میں اور چھوڑ کر اب کیا کیا قصیدے خان صاحب کے گاتے ہیں سب کو پتہ ہے ۔بتانا ہمارا فرض ہے عمل کرنا نہ کرنا آپ جائیں ۔ہم نیک و بَد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں ،صرف اس لئے کہ ہمیں کچھ اُمید ہے نئے لوگوں سے کہ شاید کہییں کچھ اچھا ہو جائے ۔ہم کسی بھی پارٹی سے نہیں ہیں ہم صرف پاکستانی ہیں اور پاکستان ہی کی بات کرتے ہیں ۔

سینٹ الیکشن کے لئے جو لین دین ہو رہے ہیں ہمیں اُس پر صرف افسوس ہی نہیں ملال بھی ہے کہ ہمارے اتنے بڑے ادارے اور اُن میں ایسے لوگ جو پیسے کے بَل بوتے پر آئینگے ہمارے ساتھ بلکہ پوری قوم کے ساتھ مزاق نہیں تو اور کیا ہے ۔ہماری سمجھ میں یہ بھی نہیں آتا کہ جب اتنا کھل کر بتایا جا رہا ہے کہ پیسہ چَل رہا ہے تو اس خرابی کو کون سا ادارہ روک سکتا ہے ،کیا الیکشن کمیشن ؟ جس نے ہر بات سے آنکھیں چرا رکھی ہیں ۔یا پھر کوئی اور ادارہ ؟ اور اگر یہ سب غلط بیانی ہے تو ان غلط باتیں کرنے والوں کو ایک دن کٹہرے میں لانا چاہئے تاکہ یہ بے پَر کی اُڑانے والے بھی خاموش ہوں ،اور اگر صحیح ہے تو خدا را اسمبلی اور سینٹ جس کی توقیر کی دُہائیاں آپ دیتے ہیں انہیں ایسے لوگوں سے بے تو قیر نہ کریں جن کا دین ایمان ہی پیسہ ہے ۔۔
اللہ میرے ملک کو اپنی امان میں رکھے اور مسلمانو ں پر رحم فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY