سزائے موت کے قانون کے خلاف عالمی دن

0
59

پوری دنیا میں گیارہ اکتوبرسزائے موت کے قانون کے خلاف عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا بظاہر مقصد سزائے موت کے قانون کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیاجاتا ہے تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سزائے موت کے قانون کو ختم کروا کر اس سے جرائم پیشہ افراد کی مدد کی جاتی ہے۔
سزائے موت پر عملدرآمد کرنے والے ممالک میں چین بدستور سرفہرست رہا، ایران میں ایک ہی سال میں پھانسیوں کی تعداد میں 44 فیصد، پاکستان میں 268فیصد اور سعودی عرب میں 3 فیصد کمی ہوئی جبکہ گزشتہ برس عراق میں دی جانے والی پھانسیوں میں اضافہ ہوا۔
جرائم میں ملوث افراد ناصرف انتہائی سنگین جرائم کا حصہ ہوتے ہیں بلکہ یہ اپنی جرائم کی سرگرمیوں سے دنیا کے بیشتر معاشروں میں شدید بدامنی کا باعث بن رہے ہیں۔ جدید معاشرے اس قانون کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تشبیہہ دیتے ہیں جبکہ مشرقی معاشروں اور خصوصاً اسلامی روایات کے حامل ممالک میں سزائے موت کو قانون کے عین مطابق تصور کیا جاتا ہےتاہم عالمی سطح پر جدید ممالک کی جانب سے سزائے موت کے قانون کے خلاف جاری مہم کے نتیجے میں گزشتہ برس سزائے موت کے واقعات میں 37فیصد کمی ہوئی۔

سن 2015ء میں 1634 افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ 2016ء میں یہ تعداد کم ہوکر 1032ہوگئی۔ دنیا کے ہر 8 میں سے ایک ملک میں پھانسی کا عمل جاری رہا اور 23 ممالک میں 1032 افراد کو پھانسی دی گئی۔ 2016ء کے دوران دنیا کے 55 ممالک میں 18848 افراد سے زائد موت کے منتظر تھے جن میں سے سب سے زیادہ 6016 پاکستان سے ہیں جبکہ امریکہ میں 2994، ایران میں 2000، عراق میں 1816، چین میں 1570 اور بنگلہ دیش میں 1235 افراد سزائے موت کے منتظر رہے۔
سزائے موت کے عالمی دن کے حوالے سے جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے مختلف ذرائع سے جو اعداد و شمار حاصل کئے ہیں اس کے مطابق 2016ء کے دوران سزائے موت پر عملدرآمد کرنے والے ممالک میں چین بدستور سرفہرست رہا جبکہ ایران دوسرے، سعودی عرب تیسرے، عراق چوتھے اور پاکستان پانچویں نمبر پر رہا۔ مصر کا چھٹا اور امریکہ کا ساتواں نمبر رہا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2016ء کے دوران چین میں لاتعداد افراد کو پھانسی دی گئی جس کی واضح تعداد موجود نہیں جبکہ گزشتہ برس پھانسی دینے کے حوالے سے دوسرے بڑے ملک ایران میں 545، سعودی عرب میں 153، عراق میں 101 اور پاکستان میں 87 افراد کو پھانسی دی گئی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایران میں ایک ہی سال میں پھانسیوں کی تعداد میں 44 فیصد، پاکستان میں 268فیصد اور سعودی عرب میں 3 فیصد کمی ہوئی جبکہ گزشتہ برس عراق میں دی جانے والی پھانسیوں میں اضافہ ہوا۔
رواں سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران اب تک چین کے بعد پھانسی دینے والا بڑا ملک بدستور ایران ہے جہاں اب تک 380 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ سعودی عرب میں 71، پاکستان میں 55، امریکہ میں 18 اور صومالیہ میں 12 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔
عالمی سطح پر اب تک دنیا کے 104 ممالک نے سزائے موت کے قانون پر پابندی عائد کردی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY