اسلا م اور حقوق ا لعباد (16)۔۔۔شمس جیلانی

0
971

ہم گزشتہ مضمون میں بات کر تے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔ اگر ہم اپنے کردار سے ثابت کریں کہ مسلمان کیسے ہوتے ہیں؟ تو ہم سب اپنے دین کے چلتے پھر تے سفیر بن جائیں گے اورہجرت کے تمام ثواب کے مستحق ہونگے جو کہ ابھی نہیں ہیں اس لیئے کہ ہم نے اللہ کے ہجرت نہیں کی جبکہ دولت کمانے کے لیے کی جو کہ کوئی بری بات نہیں تھی مگر چونکہ ہر چیز کا دار ومدار اسلام میں نیت پر ہے لہذا ابھی تک آپ کے کھاتے میں وہ ثواب جو اللہ کے لیے ہوتا ہے اس کے مستحق بنے۔ بس نیت کی دیر ہے پہلے نیت کرلیں پھر خود کو بدلنے کی کوشش شروع کردیں ہے؟ پھر ہر ایک آپ سے پوچچھے گا۔کہ ایسا کیوں کرتے ہو اور آپ بجا ئے خود کو مسلمان بتاتے ہو ئے شرمانے کہ فخریہ بتائیں گے یہ ہمارے دین کا تقاضہ ہے۔ اور جو فائیدہ دنیا بھر میں پروپیگنڈے کےذریعہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد دشمنان ِاسلام کو حاصل ہوا تھاوہ ہوا میں تحلیل ہوجا ئےگا ، مگر پہلے ہم مسلمان بن تو جائیں ؟ جو کہ آ ج کل اپنے کردار کی وجہ سے اس کا لٹ ہیں اور اپنے ساتھ سلام کو بھی لے ڈوبے ہیں ۔ کیونکہ ا بھی صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی اسلامی تعلیمات پڑھتا ہے۔ تو اسے کتابوں پر یقین نہیں آتا اور جبکہ بے یقینی پیدا کرنے کابا عث ہم خود بنے ہوئےہیں ۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ ا سلام تلوار سے پھیلا وہ قطعی طور پر غلطی پر ہیں اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے اور کردار کے اثر انداز ہونے کا مظاہرہ بھی یہ ہی ہے کہ حضور(ص) نے پہلےصحابہ کرام (رض) جیسے کردار پیدا کیئے ؟ جنہوں نے مکہ سے آنے والے مہاجر بھائیوں کواپنی ہر چیز میں برابر شریک کرلیا اور یہ ہی نہیں جب حضور (ص) نے فرمایا کہ تمہارے یہ بھائی زراعت نہیں جانتے ہیں لہذا محنت بھی تم کرو اور نصف کمائی ان کو دیدو؟اور وہ حکم بھی انہوں نے تسلیم کر لیا۔ دوسرا ثبوت یہ ہے کہ عجم میں جو شہر مسلمانوں کا دار الحکومت رہے وہاں مسلمان اقلیت میں رہے اگر دین تلوار سے پھیلتا تو وہ مسلمان ہوتے؟ جبکہ جہاں کہیں اسلام کردار سے پہونچا!وہاں آج اکثریت مسلمانوں کی ہے جیسے انڈونیشیا ملا ئیشیا وغیرہ آخر کیوں؟۔ تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ عرب کبھی اچھے تاجر نہیں تھے۔ مگر جب وہ اسلام لے آئے اورا نہوں نےتمام برائیاں چھوڑدیں جو وہ پہلے روا رکھتے تھے تو لوگوں نے ان سے وجہ معلوم کی تب ا نہیں بتا یا گیاکہ ہم میں ایک نبی (ص) تشریف لائےاورا نہوں نے ایک اللہ پر ایمان لانے اس کے احکمات ماننیں کاحکم دیا جن میں تمام برائیاں چھوڑدینے کا حکم بھی شامل تھا۔ ان میں تجارتی ہیر پھیر بھی شامل تھا، پہلےہم نے ان پر ایمان لاکر اور برائیوں کر چھوڑ کر برکتیں دیکھیں تب ہم نے وہ برائیاں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں ۔لہذا وہ بھی انہیں دیکھ کر ایمان لے آئے؟ لیکن ہمارے مورخین نے بھی یہ بات تو بڑے فخر سے بتائی ہے کہ عرب تاجروں سے متاثر ہوکرا س علاقے کے لوگ مسلمان ہوئے؟ مگر یہ نہیں بتا یا کہ مسلمان ہونے سے پہلے ن کی کیا حالت تھی وہ تلاش تو سب کچھ آپ کو تاریخ میں مل جا ئے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY