بلوچستان اسمبلی,آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ کے التواءکی قرار داد منظور

0
36

بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ کے التواءکی قرار داد منظورکرلی جس میں سفارش کی گئی ہے کہ عام انتخابات جولائی کے آخری ہفتے کی بجائے اگست کے آخری ہفتے میں منعقد کرائے جائیں، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جولائی میں شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سےپولنگ اسٹاف کا بیٹھنا بھی محال ہوگا، عوام انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ سرفراز بھی کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کی تاخیر الیکشن ملتوی کرانے کی سازش نہیں ،اپوزیشن نے قرارداد پر شدید احتجاج کرنے ہوئے کہا کہ قرارداد آئین و قانون کے منافی ہے، یہ انتخابات ملتوی کرانے اور جمہوریت کیخلاف سازش ہے،پشتونخوا میپ کے ارکان نے قرارداد منظور ہونے پر ایوان سے کا واک آئوٹ کیا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ کے التواءکی قرار داد منظورکرلی۔ نیشنل پارٹی اور

پشتونخواملی عوامی پارٹی نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انتخابات کو التواء میں ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کے دوست اسے کوئی اور رنگ دے رہے ہیں انتخابات ملتوی نہیں کریں گے بلکہ ہم بلوچستان کے موسم کو دیکھتے ہوئے یہ قرار داد لائے ہیں ہمیں اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے حلقے کونسے ہیں ۔بدھ کی رات گئے تک بلوچستان اسمبلی کا اجلاس چلتا رہا اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ و قبا ئلی امور میر سرفراز بگٹی نے انتخابات میں ایک ماہ کی تاخیر سے متعلق قرار داد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور صوبہ کی آبادی دور دراز علاقوں پر مشتمل ہے چونکہ موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت 31 مئی کو مکمل ہو رہی ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نےعام انتخابات کے انعقاد کے لئے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے چونکہ ان دنوں میں بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شدید گرمی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ووٹرز کا انتخابی عمل میں حصہ لینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے علاوہ ازیں پولنگ اسٹیشنوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ اسٹاف کا بیٹھنا بھی محال ہے لہٰذا یہ ایوان وفاقی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اگست 2018ء کے آخری ہفتہ میں عام انتخابات منعقد کرائے جائیں تاکہ صوبہ کے عوام حق رائے دہی کے اس عمل میں مکمل حصہ لے سکیں جو کہ ان کا آئینی حق ہے پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی نے انتخابات ملتوی کرانے کی قرار داد کی مخالفت کی اپوزیشن رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ہم اس کے حق میں نہیں کہ انتخابات ملتوی ہوں یہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہےانتخابات کو ملتوی کرنا جمہوریت کے خلاف ہے اپوزیشن رکن نصراللہ زیرے نے کہاکہ آج پھر غیر جمہوری قوتیں انتخابات روکنے کی کوشش کررہی ہیں یہ قرارداد جمہوریت اور آئین کے منافی ہے 70 کی دہائی میں صوبہ میں ووٹ نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی ون مین ون ووٹ کی بدولت آج یہ لوگ ایوان میں بیٹھے ہیں جمہوریت کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اس طرح کی قرار داد کے ذریعے جمہوریت کا بسترلپیٹا جارہا ہے پہلے قرار داد کا متن کچھ اور تھا اب کچھ اور ہے پورا ملک کہتا ہے کہ انتخابات کو ملتوی کرو تو ہم اس کے لئے تیار ہونگے اس قرار داد کو ندامت کے ساتھ واپس لیا جائے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قرار داد لانا میرا حق ہے قرار دادجمہوریت کے خلاف نہیں اس سے قبل بھی سینٹ انتخابات سبوتاژ ہونے کی باتیں کی گئیں ہم پر پیسے لینے کے الزامات لگائے گئے بتایا جائے کہ حاصل بزنجو کیسے سینیٹر منتخب ہوئے حاصل بزنجو جب سینیٹر بنے تو نیشنل پارٹی کا ایک رکن بھی اسمبلی موجود نہیں تھا رکن صوبائی اسمبلی عبیداللہ بابت نے کہا کہ انتخابات ملتوی کرانا غیر جمہوری عمل ہے اپوزیشن رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ آج کل بلوچستان کو تقسیم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں بلوچستان کو تقسیم کوئی بھی نہیں کرسکتا کسی کو بھی بلوچستان کو تقسیم کرنے نہیں دیں، میر حاصل بزنجو کو ان لوگوں نے ووٹ دیا جن کے ووٹ بکے نہیں تھے اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ صوبہ کے گرم علاقوں کے لوگ سرد علاقوں کا رخ کرتے ہیں جولائی میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے لاکھوں لوگ سعودیہ عرب چلے جاتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ایوان کے منتخب نمائندے ایوانوں میں آئیں ہم کسی صورت جمہوریت کو ختم نہیں کرنے دیں گے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پانچ سال حکومت میں رہتے ہوئے پشتونوں کے حقوق کاخیال نہیں آیا اورہم نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہر ظلم برداشت کیا عوامی نیشنل پارٹی نے جمہوریت کے لئے بہت بڑی قربانیاں دیں ہمارے اکابرین نے جو قربانیاں دی ہیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں تعصب کی بنیادپر ایک دوسرے کو لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY