اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کھل تو گئی مگر احتجاج کے باعث تدریسی عمل ٹھپ ہو گیا، پولیس اور طلبا میں جھڑپ کے باعث متعدد طلبہ زخمی ہو گئے۔ کیمپس میں کشیدگی بڑھنے پر پولیس نے 100 سے زائد طلبا کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا۔

اسلام آباد قائداعظم یونیورسٹی میں کچھ دیر بحال رہنے والا تدریسی عمل پھر سے ٹھپ ہو گیا۔ یونیورسٹی کیمپس میں پولیس اور طلبا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ مشتعل طلبا سے نمٹنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری اور واٹر کینن موجود ہے۔ ایک طرف پولیس طلبہ کو ٹرکوں میں بٹھا کر لے جاتی رہی، دوسری جانب لیڈیز پولیس اور طالبات بھی ایک دوسرے سے الجھتی رہیں۔ طلبا کا کہنا ہے ہمارے مطالبات جائز تھے، یونیورسٹی زبردستی بند کرائی گئی ہمارا نا قابل تلافی تعلیمی نقصان ہوا۔

اس سے قبل رات بھر طلبہ سے ہڑتال نہ کرنے کیلئے مذاکرات کئے گئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ بالاآخر پولیس نے ہڑتالی طلبا کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے درجنوں کو حراست میں لے لیا اور یونیورسٹی کھلوا دی لیکن معاملات پھر بگڑگئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY