ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 1

11
4500

ڈاکٹر نگہت نسیم ایک زندہ دل فرد ہیں اور انکی زندگی کی ہر جہت منفرد ہے۔ ڈاکٹر ہونے کے ناطے انکا یہ حال ہے کہ وہ مریض کے ساتھ خود مریض بن جاتی ہیں۔ میں نے انکو اپنے مریضوں کے لیئے روتے اور دعائیں کرتے دیکھا ہے۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ وہ اپنے کتنے ہی مریضوں کو اپنا کھانا دے دیتی ہیں انکی مالی مدد کرتی ہیں۔ ڈاکٹر نگہت نسیم پیسہ کمانے کی مشین ہر گز نہیں ہیں بلکہ پیسہ خرچ کرنے کی مشین ہیں اور مولا علی کے اس فرمان پر عمل کرتی ہیں کہ پیسہ خرچ کیا کرو تا کہ مزید پیسہ آئے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ چیرٹی کا کتنا کام کرتی ہیں، کچھ بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی اٹھا رکھے ہیں اور بنام خدا اسکے علاوہ بھی بہت سے کام کرتی ہیں

وہ یہ سب کچھ کبھی کسی کو نہیں بتاتی ہیں اور مجھ جیسے دوست کو بھی اجازت نہیں یہ سب بتانے کی۔ لیکن آج میں نے یہ بتانا یوں ضروری سمجھا کہ گزشتہ دو ڈھائی ماہ سے وہ جس امتحان سے گزری ہیں اس میں کامیابی انکو ان ہی کاموں کی وجہ سے ملی ہے کہ اللہ پاک واقعی شہ رگ کے قریب ہوتا ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ نگہت کے گھر کا بہت اہم فرد تصور ہوتا ہوں اور وہ کتنی ہی باتیں اہل خاندان سے قبل اس فقیر سے کر لیتی ہیں اور ایسا ہی کینسر کی خبر پر ہوا اور ہم نے طے کیا کہ علاج پر مکمل توجہ دی جائے سب کو بتانے کی بجائے۔

کینسر کا لفظ ہی انسان کو پچاس فیصد مار دیتا ہے لیکن نگہت یہ جاننے کے بعد کہ انکو کینسر ہے جیسے مزید طاقتور ہو گئیں اور جیسے اللہ کریم نے انکے لیئے فٹا فٹ راستے بنائے اور پھر کامیاب آپریشن ہوا اور انشااللہ نوید یہی ہے کہ وہ مکمل صحتیاب ہیں

ہم دونوں نے طے کیا کہ اس امتحان کی روداد لکھی جائے اور اس طرح لکھی جائے کہ پڑھنے والوں کو معلومات بھی ملیں مرض سے آگاہی بھی ہو اور ایسی صورت حال میں حوصلہ بھی میسرہو۔ یہی سوچ کر نگہت نے اپنی آپ بیتی لکھنی شروع کی ہے عالمی  اخبار کے لیئے۔ مجھے یقین ہے کہ انکا انداز تحریران جاں گُسل مراحل کو بھی آپکے لیئے سہل بنا دے گا

میں ذاتی طور پر اور عالمی اخبار کے ادارتی عملے کی جانب سے ڈاکٹر نگہت نسیم کی مکمل صحت یابی کے لیئے دعا گو ہوں اور شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی آپ بیتی کی اشاعت کے لیئے ایک بار پھر عالمی اخبار کو عزت دی

سلامت رہیں خوش رہیں

دعا گو صفدر ھمدانی

مدیر اعلیٰ۔ عالمی اخبار 

……………………

تیس مئی دوہزار بائیس ( 30 مئی 2022 ) بروز پیر ، سڈنی کے وقت کے مطابق تین بج کر پچیس منٹ پر میری اپوایئنمنٹ اپنی جی پی (جنرل پریکٹیشنر ) ڈاکٹر مدحت سید کے ساتھ مور بینک شاپنگ ویلج میڈیکل سینٹر میں طے تھی کہ مجھے تین دن کی چھٹیوں‌کے بعد مزید دو دن کا سرٹیفیکٹ چاہیئے تھا کہ کچھ دن اور آرام کر سکوں ۔ یہ الگ بات کہ آرام گھریلو سا ہی مطلوب تھا ۔۔ پورے گھر میں کپڑوں کی الماریاں بے ترتیب سی ہو رہیں تھیں ۔۔ کتنے ہی کپڑے پہننے میں نہیں آ رہے تھے ، دل ہی دل میں انہیں بانٹ بھی چکی تھی ۔ اور چادروں والی الماری میں تو مانو ایک کہرام سا برپا تھا ۔ تولیوں کی جگہ سنگل بیڈ کی چادریں اور سنگل کی جگہ کویئن بیڈ کی چادریں اپنی بے گھری کا شکوہ کر رہی رہیں تھیں ۔۔تولیوں‌کا حال تو بیان ہی سے باہر تھا۔۔سفید رنگین سب ایک دوسرے سے رل مل چکے تھے ۔ اور یہ بھی سوچا کہ الماریوں کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ کھانے بنا کر آفتاب کو حیران بھی کرونگی ۔۔۔

گھر میں اب تھا ہی کون ہم دو کے سوا۔ بچے تعلم اور جاب کے سلسلے میں گھر سے دور جا بسے تھے اور جب جس کو جو جو وقت ملتا گھر کا چکر لگاتے پر فون اور وٹس اپ گروپ پر یوں خبر گیری رہتی جیسے ہم سب ساتھ ساتھ ہی رہ رہے ہوں ۔ ٹیکنالوجی نے محبت کرنا اور نبھاہنا آسان سا کر دیا تھا ۔۔ ماں باپ کو سکون سا دے رکھا تھا ۔۔ چیٹ ۔۔فون اور فیس ٹائم زندگی کا حصہ ہو گئے تھے ۔ لوگ کہتے ہیں ٹیکنالوجی نے احساسات کے ساحلوں پر دبے پاؤں آکر لمس کے نشان مٹا دیئے ہیں پر مجھے لگتا ہے جیسے لمس سے آشنائی اسی کی وجہ سے ممکن ہو پائی تھی۔ مجھے لہجوں اور لمس کی پہچان اسی ٹیکنالوجی نے سیکھائی تھی ورنہ تو زندگی میں صرف ہجر ہی آباد رہتا ۔

سچ ہی تو تھا زندگی کی منسائن یہی تو ہے ۔۔۔ ہاں یاد آیا منسائن کا لفظ میری دوست شاہین خان کی زبان سے پہلی بار سنا تھا جس کے معنی “‌رونق “‌ کے ہیں ۔۔۔ اس نے بھی اپنی ساس صاحبہ جو اس کی ممانی بھی ہیں ان سے سنا تھاکہ وہ ہندی کے لفظ بہت آسانی اردو سے ایسے ملاتی ہیں کہ رشک ہونے لگتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر ہو کہ دنیا منسائن صرف بے ترتیبی اور نئے پن میں تھی اور مجھے ان سے اتفاق تھا ۔

سرجری کی انتطار گاہ میں حسب معمول اور حسب توقع بہت رونق تھی ۔۔۔ اس کا مطلب کچھ بھی ہو لیکن میرے نزدیک ڈاکڑوں‌ اور اسٹاف کا اچھا ہونا تھا یعنی مستعد اور بااخلاق عملہ ۔۔ میں نے چاروں‌ طرف دیکھا ۔۔ لوگ اپنے اپنے موبائل میں الجھے سلجھے بیٹھے تھے ، کچھ لوگ ٹی وی دیکھ رہے تھے ، اور کچھ ریسیپشن استقبالیہ پر اپنی باری آنے کا باربار پوچھ رہے تھے ۔ مجھے اپنے ہسپتال کا اپنا چھوٹا سا یونٹ یاد آگیا اور اپنا اسٹاف اور اپنے مریض بھی ۔۔ لیکن اس وقت میں مریض تھی اور ایک یہی بات مجھے اچھی نہ لگتی تھی یعنی رول کی ادلا بدلی ۔ لیکن کیا کیجئے قانونی طور پر ہم ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی اپے لیئے کوئی نسخہ تجویز نہیں کر سکتے ۔۔ اب میں مسکرا رہی تھی ۔

ایسے میں اچانک فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔۔ میں نے موبائل فون کو یوں دیکھا جیسے پہلی بار بجا ہو
اسکرین پر میری گائیناکولوجسٹ ڈاکٹر رابعہ شیخ کا نمبر جمگا رہا تھا
میرا دل زور سے دھڑکا ۔۔ اور فون سننے کے لئے میں سرجری سے باہر نکل آئی ۔۔ سامنے پارکنگ تھی ۔۔ ٹریفک دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا۔۔ سردیوں کی شام بھی ڈھلنے والی تھی اور وقت چار بج کر چھ منٹ‌ تھا ۔۔ لیکن ڈاکڑ رابعہ کیوں مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے ۔۔۔ ڈرنے کی بات تھی شاید ۔۔۔ نہیں شاید ۔۔۔
ہیلو نگہت
جی رابعہ
نگہت کیا آپ میری کلینک پر ابھی اسی وقت آ سکتی ہیں
نہیں رابعہ یہ ممکن نہیں ۔۔ آفتاب آٹھ بجے تک آفس سے آیئں گے اور اب تو ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہو گئی ہے ۔۔ اور ویسٹ‌میڈ‌ ہسپتال بہت دور ہے
اچھا پھر پانچ بجے زوم پر آ جانا ضروری بات کرنی ہے
کیامیری رپورٹ آ گئی ہے رابعہ
ہاں آ گئی ہے اور اسے ہی ڈسکس کرنا ہے ۔۔ اچھا پھر پانچ بجے ذوم پر بات ہوتی ہے
رابعہ اگر رپورٹ اچھی نہیں آئی ہے تو ابھی سے بتا دو
اچھا نگہت بات ہوتی ہے ۔۔ہو سکے تو آفتاب بھائی کو بلا لینا
فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔
شاید میرا دل بند ہونے والا تھا

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

11 COMMENTS

  1. ہم سب کی مسیحا صفت بہادر دوست ہر پل دل اوردعا میں رہنے والی ۔۔۔۔اللہ آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ مکمل شفایابی عطا فرمائے ۔۔۔آمین۔آپ کے اس سفر میں آپ کے ساتھ ہوں۔دس برس کے دوستی کے سفرمیں آپ میری دوست یی نہیں معالج بھی رہی ہیں۔۔اور مشکل ترین وقت میں ہمدم و دمساز۔۔۔کم ملے، کم بات ہوئ تب بھی رچ کے ملے کھل کے بات ہوئ ۔آپ اوربابا صاحب محبت اور شفقت کا ایک خزانہ ہیں جو قسمت سے ہمیں میسر ہے ۔بے شمار دعائیں ۔۔۔

  2. Payre nighat ap ka leya buhat saree dile dua ha.Allha pak sayht wale lambe zindge ata frmaya ameen 🙏 ♥

    • السلام علیکم پیاری نگہت آپا۔
      سب سے پہلے تو معذرت کے بہت دیر کے بعد آپ کی تحریر تک پہنچا۔
      ایک روز قبل ہی میں نے آپ کی تحریر فیس بک پر دیکھی۔
      مگر وہ کوئی آگے کی قسط تھی۔ آج پہلی قسط پڑھی ہے تو دل اُداس سا ہو گیا ہے۔
      اللہ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین۔

  3. کچھ لوگ محبت بانٹتے ، حوصلہ دیتے ہی اچھے لگتے ہیں لیکن کبھی کبھی قسمت ہم جیسے کم ظرف لوگوں کا امتحان لینے کے لئے ہماری جگہیں تبدیل کردیا کرتی ہے تا کہ ہم اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا ہم بھی انہیں محبت اور حوصلہ دے سکتے ہیں۔۔۔۔ میرے مالک ڈاکٹر نگھت نسیم جیسی ہستی کی ہمیں بہت شدت سے ضرورت ہے۔ اس فرشتہ صفت مسیحا کی مسیحائی فرما ۔ آمین

  4. 3 bar comment likha aur web ne rejectkar dia …lamby comment ki bajay nukhtasir….Allah Tala jald sehat yaab kary

  5. اللہ اپ کو صحت تندرستی والی لمبی زندگی دے۔۔کچھ دن پہلے ہی میں سوچ رہی تھی کہ فیس بک پر سب سے پوزیٹیو بندی اپ ہیں۔۔۔مجھے اپ کو پڑھناپسند ہے

  6. پیاری نگہت
    کبحی سوچا نہ تحا کہ آپ کے بارے میں ایسی خبر ملے گی۔ مجحے یقین ہے آپ اس بیماری کا بڑے اعتماد اور حوصلے سے مقابلہ کریں گی اور اسے شکست دے کر اپنی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ہم سے ملتی رہیں گی اللہ آپ کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا کرے آمین

  7. میں نگہت سے کبھی نہیں ملی لیکن میں اس ٹیکنالوجی کی ممنون ہوں جس نے مجھے نگہت سے ملایا ان کی محبت سے آشنا کیا نگہت کے اندر جو خلوص اور محبت کا سمندر بے کراں ہے میں نے بھی اسے فیض اٹھایا مجھے پتا ہے انھیں کچھ نہیں ہو گا کیونکہ ابھی انھیں بہت سا کام کرنا ہے بہت سارا پیار بانٹنا اور ان سارے کاموں کے لیے انھیں بہت سارا جینا ہے انشااللہ

  8. اللہ پاک خیر کرے اور بحق محمد و آل محمد علیہ السلام آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے میں نے یہ پوسٹ ابھی پڑھنی شروع کی اور خالق اکبر سے دعا ہے اس میں کچھ ایسا نہ ہو جو میری پیاری بہن کے لیے کسی بھی قسم کی تکلیف کا باعث بنے
    بہت دعاہیں باقی باتیں باقی اقساط پڑھ کر اللہ کی امان میں

LEAVE A REPLY