اب تو القدس بھی ہے تمہارے ہی اعمال کے تیر کھا یا ہوا

0
732

ابرہہ عہدِ حاضر کا اس بار تنہا نہیں
ساتھ اُس کے بڑی طاقتوں کے خدایانِ شر بھی تو ہیں
ہاں مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس بار شاید کوئی
سورئہ فیل نازل نہ ہو
اور اس کا سبب
ہم مسلمانوں کی بے حسی کے سوا اور کچھ بھی نہیں
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے ہمارے گھروں کو تباہ کر دیا
آسماں سر سے پاؤں سے کھینچ لی ہے زمیں
شہر اُجڑے ہوئے
گرد اوڑھے ہوئے سو رہے ہیں مکیں
عالمِ کفر و شر تو ہے جاگا ہوا
حاکمینِ عرب اور عجم جیسے سوئے ہوئے
اک عجب بے حسی کی ہے یہ انتہا
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے جنہیں ریزہ ریزہ کیا
اُن پہ ماتم کُناں
اُن پہ سینہ زناں
اُن پہ نوحہ کُناں کوئی بھی تو نہیں
بِک گئے ہیں قلم اور قلم کار خفتہ ضمیری کی میت اٹھائے ہوئے
اور مسلمان حاکم محلات میں سہم کر چھُپ گئے
ایسے حالات میں بھی ہیں اپنے حرم کو سجائے ہوئے
اے عرب اور عجم کے مسلمان حاکمو
ارضِ بغداد کی موت کے بعد اب تمہیں
مرگِ لبنان پر بھی مبارک کہیں
تم نے اپنے ہی دین اور تہذیب کا جس طرح سے جنازہ نکالاہے اُس پر مبارک تمہیں
تم نے اپنی شجاعت و جرآت کے زرین ابواب کو
جس طرح پارہ پارہ کیا
اُس پہ بھی تم کو تحسین ہو
اور ابد تک تمہارے ان عشرت کدوں میں اُجالا رہے
سب جہانوں میں تمہاری اس بے ضمیری کا بھی بول بالا رہے
بے ضمیری کے نشے میں مدہوش حاکمینِ عرب اور عجم کو ہمارا سلام
ایسے فرمانرواؤں کی زریں عباؤں قباؤں پہ جانیں نثار
جن کو ہے صرف اپنی حکومت سے پیار
بصرہ و کوفہ و شہرِ بغداد کے بعد اب آپ کو
ہو مبارک کہ بیروت بھی لُٹ چکا
ارضِ لبنان بھی حذبِ شیطان کی ملکیت بن گئی
بالبیک کے ہر اک گھر پہ اب موت کا راج ہے
اور کانا کی ساری فضا
خون اور بارود کی بو میں ہے جس طرح سے نہائی ہوئی
اب تو القدس بھی ہے تمہارے ہی اعمال کے تیر کھا یا ہوا
اور یہ عزت مآب حکمراں
سامراجی خداؤں کے پٹھو یہ فرمانروا
قحبہ خانوں میں مدہوش سوئے ہوئے
پاسبانِ حرم
مصلحت کی قبا کو منافق بدن پہ سجائے ہوئے
تاج اور تخت کے عشق میں بے ایماں،دوغلے حکمراں
چند دن اور ہیں
دیکھنا ہوں گے یہ سب بھی عبرت نشاں
کعبئہ دل میں اب کوئی دے تو اذاں
یا امامِ زماں
العجل العجل۔۔۔نعرہِ کشتگاں
المدد یا خُدا۔۔۔خالقِ دو جہاں
المدد یا نبی۔۔۔قبلہِ عاشقاں
المدد یا علی
پھر سے مشکل میں ہے عاشقِ مصطفیٰ
المدد یا علی سب کے مشکل کُشا
سب کے حاجت روا

صفدر ھمٰدانی

SHARE

LEAVE A REPLY