بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ ناجائز ثابت ہوگیا، ترک صدر رجب طیب اردوان نے مطالبہ کردیا کہ امریکا بنا تاخیر اپنا فیصلہ واپس لے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ عالمی برادری نے امریکی صدر کی دھمکی کو مسترد کردیا۔

برطانیہ نے بھی ٹرمپ کا متنازعہ فیصلہ مسترد کرنے کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کے حق ہی میں ووٹ دیا، جو امریکا کا قریبی اتحادی ہے۔

اردن کی جانب سے بھی قرارداد منظور ہونےکا خیرمقدم کیا گیا جبکہ غزہ اور اردن میں اسرائیل اور امریکا کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے۔

فلسطین کی جانب سے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ غزہ میں اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

ادھر تنظیم آزادی فلسطین کی جانب سے کہا گیا کہ 128 ممالک نے امریکا اور اسرائیل کو بتادیاکہ وہ جو کررہے ہیں وہ غلط اور ناقابل قبول ہے۔

اسرائیل نے قرارداد مسترد کردی جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اسرائیل کا دفاع کیا۔

دوسری جانب امریکا سے بیت المقدس سے متعلق فیصلہ واپس لینے کی قرار داد منظور ہونے پراردن میں جشن منایا گیا، عمان میں امریکی سفارتخانے کے باہر شہری جمع ہوئے اور ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا امریکی اقدام کی مخالفت کررہی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ قرارداد منظور ہونے کے بعد وہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکا، القدس کو دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ واپس لے۔

SHARE

LEAVE A REPLY