یوم کشمیر کے موقع پر ٹوکیو میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے پاکستانی اور کشمیری شہریوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں بڑی تعداد میں سیاسی سماجی اور مذہبی تنظیموں سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے شرکت کی۔
پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے پلیٹ فارم سے ہونے والے مظاہرے کے موقع پر جاپان کی پولیس سمیت سکیورٹی حکام کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ بھارتی سفارتخانے کے سفارتکار اور خفیہ ایجنسیوں کے حکام بھی مظاہرے کو مانیٹر کرنے کے لیے سفارتخانے کے احاطے میں موجود تھے۔
مظاہرین نے بھارت کی جانب سے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف نعرے بلند کیے جبکہ بھارتی افواج کی جانب سے معصوم کشمیریوں کی ہلاکت اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔
شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے انہوں نے اقوام متحدہ اور جاپانی حکومت سے بھی کشمیر کی آزادی کے لیے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے لیے دباء ڈالنے کا مطالبہ کیا ، مظاہرے میں پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کے صدر شیخ ذوالفقار اور جنرل سیکریٹری رحیم آرائیں نے بھارتی حکومت سے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادی دینے ، معصوم کشمیریوں پر مظالم روکنے کا مطالبہ کیا۔
جبکہ مسلم لیگ ن جاپان کے صدر ملک نور اعوان نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کی آزادی تک قانونی اور اخلاقی جنگ جاری رہے گی ، ن لیگ جاپان کےسینئر نائب صدر ملک یونس نے کہا کہ بھارت ایک لاکھ معصوم کشمیریوں کو قتل کرکے بھی آزادی کی پیاس اورآواز کو دبا نہیں سکا ہے، اسے کشمیریوں کو ازادی دینا ہوگی۔
پیپلز پارٹی جاپان کے سابق صدر نعیم آرائیں نے کہا کہ بھارت کو نہ صرف کشمیر کو آزاد کرنا ہوگا بلکہ دیگر مسلمان ریاستوں کو بھی آزادی دینا پڑے گی ۔
تحریک انصاف جاپان کے صدر احمد سعید بھٹی کا کہنا تھاکہ بھارت اب زیادہ دیر تک کشمیریوں کو محکوم نہیں رکھ سکتا ،معروف مذہبی رہنما قاری علی حسن ، انعام الحق سمیت سینئر صحافی ہمایوں مغل ،وسیم ماہی سمیت اہم شخصیات نے کمیونٹی کی نمائندگی کی۔
اس موقع پرمظاہرین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پتلےکو جوتوں کے ہار پہنائے جبکہ وقفے وقفے کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم کے خلاف سخت نعرے بازی کی جاتی رہی۔
جاپانی حکومت نے بھارت کے ساتھ اپنے بہترین سفارتی تعلقات کے پیش نظر سفارتخانے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس تعینات کررکھی تھی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جاسکے جبکہ مظاہرین کی سلامتی کے لیے بھی انتظامات رکھے تھے ، تین گھنٹے جاری رہنے والا مظاہرہ اپنے مقررہ وقت پر ختم ہوا ۔













