ایگزٹ جعلی ڈگری کیس، شعیب شیخ کو بری کرنے والا جج برطرف

0
84

ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں رشوت لے کرشعیب شیخ کو بری کرنے والے معطل ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار راجہ جواد حسن عباس نے معطل جج کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کا ٹرائل ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن نے کیا تھا اور سماعت مکمل کر کے شعیب شیخ، عائشہ شعیب اور وقاص عتیق سمیت ایگزیکٹ کے 27 ملزمان کو 31 اکتوبر 2016 ءکو مقدمے سے بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
بعدازاں جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے سامنے 50لاکھ روپے لے کر ایگزیکٹ کے ملزمان کو بری کرنے کا اعتراف کیا۔
کمیٹی نے یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے جج کو ملازمت سے برخاست کرنے کی سفارش کی۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیشن جج کو معطل کرکے 9 جون 2017ء کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور انکوائری بھی شروع کی۔
معطل جج کو برطرفی سے قبل انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر صفائی کا موقع دیا گیا جا نے گزشتہ برس اگست میں انکوائری مکمل کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی میں حال ہی میں یہ معاملہ دوبارہ زیر غور آیا اور جج کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔
رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ راجہ جواد حسن عباس نے معطل ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔
علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس میں چیئر مین ایگزیکٹ شعیب شیخ ویگر ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔
کارروائی کے دوران شعیب شیخ کی غیر حاضری پر عدالت نے اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا، جبکہ سماعت 21فروری تک ملتوی کردی گئی۔
ایف آئی اے کی ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی، عدالت نے چیئر مین ایگزیکٹ شعیب شیخ کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا ۔
عدالت نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ کیوں نہیں آئے؟
جس پروکیل نے بتایا کہ کہ شعیب شیخ بیمار ہیں،اس لیے پیش نہیں ہوسکے۔
عدالت نے شعیب شیخ کا میڈیکل سرٹیفکیٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرانہیں پیش ہونے کاحکم دیدیا۔
ادھر ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں ایف آئی اے نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ایف آئی اے نے کیس کی پیروی کیلئے جسٹس (ر) حامد علی شاہ کی خدمات حاصل کرلیں۔
ایف آئی اے کی طرف سے جسٹس ریٹائرڈ حامدعلی شاہ آئندہ چارروز میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔
پشاور ہائی کورٹ نے جعلی ڈگری کیس کے ملزم ڈاکٹرفواد کے خلاف ایف آئی آر ختم کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔
ہائی کورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں ڈاکٹر فواد کے خلاف ایف آئی آر ختم کرنے کا فیصلہ دیا تھا اور معاملے کو ایف آئی اے کے دائرہ کار سے باہر قرار دیا تھا۔
ایف آئی اے کی مجوزہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمے میں جو دفعات لگائی ہیں و ہ ایف آئی اے کے اختیار میں آتی ہیں ۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈاکٹر فواد باچا خان یونی ورسٹی چارسدہ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعینات تھے اور ان کو ملنے والی تنخواہ کی رقم وفاقی حکومت کے پیسوں سے ادا کی گئی۔
ڈاکٹر فواد جان کے خلاف ایف آئی اے نے ایگزیکٹ سے جعلی ڈگریاں لینے پر مقدمہ درج کیا تھا۔
ڈاکٹر فواد نے ایگزیکٹ سے پی ایچ ڈی کمپیوٹر سائنس میں دو ڈگریاں لی تھیں۔
ایف آئی اے کراچی نے ایگزیکٹ سے ملنے والے ڈیٹا سے ڈاکٹر فواد کو جاری جعلی ڈگریوں کی تصدیق ہوئی تھی جب کہ ان کی بی سی ایس کی ڈگری بھی جعلی تھی۔
ڈاکٹر فواد نے ایف آئی اے کے سامنے جعلی ڈگریاں لینے کا اعتراف کیا تھااور ایف آئی اے کرائم سیل نے 2016ء میں ڈاکٹر فواد کے خلاف سال کا پہلا کیس رجسٹر کیا تھا جبکہ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر فواد جان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈاکٹر فواد نے 2003ء سے 2009ء تک پانچ جعلی ڈگریاں حاصل کیں جس میں چارجعلی ڈگریاں ایگزیکٹ نے فراہم کیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY