ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام کے شمالی قصبے عفرین کا آیندہ چند روز میں مکمل محاصرہ کر لیا جائے گا۔

انھوں نے منگل کے روز پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آیندہ چند روز میں ہم عفرین کے وسطی حصے کا محاصرہ کر لیں گے‘‘۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ترکی کا شامی کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی )کے خلاف آپریشن ’’ شاخِ زیتون‘‘ دوسرے مہینے میں داخل ہوچکا ہے۔اس کارروائی میں ترک فوج کے زمینی دستے اور فضائیہ حصہ لے رہی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترک فوج اور اس کے اتحادی شامی باغیوں نے عفرین میں کرد ملیشیا کے خلاف اب تک کارروائی میں بہت سست رفتاری سے پیش قدمی کی ہے لیکن صدر طیب ایردوآن نے اس سست رفتار پیش قدمی کا دفاع کرتے ہوئے اس کا یہ جواز بیان کیا ہے کہ ترک فوجیوں اور عام شہریوں کی زندگیوں کو غیر ضروری طور پر داؤ پر نہیں لگایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم اس قصبے کو جلانے کے لیے وہاں نہیں گئے ہیں بلکہ اس کا مقصد شامی مہاجرین کے لیے ترکی میں ایک محفوظ اور رہنے کے قابل علاقہ بنانا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ عفرین میں ترک فوج کی کارروائی کے آغاز کے بعد سے 94 شہری ہلاک ہوچکے ہیں لیکن ترکی کا موقف ہے کہ اس کی کارروائی میں شہریوں کی ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں اور اس کی مسلح افواج جنگی کارروائیوں میں حتیٰ الوسع احتیاط کا مظاہرہ کررہی ہیں تاکہ شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

ترک فوج نے عفرین میں گذشتہ ماہ کرد جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں اور سرحد پار سے گولہ باری کے بعد زمینی کارروائی شروع کی تھی ۔ترکی وائی پی جی کو ایک دہشت گردگروپ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کرد گروپ ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں مسلح بغاوت کرنے والے گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا اتحادی ہے اور دراصل یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی ہیں۔

ترکی اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پی کے کے کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے لیکن وائی پی جی ملیشیا شام میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ میں شریک رہی ہے اور امریکا اس کا اپنا اتحادی قرار دیتا ہے۔امریکا اور یورپی لیڈر ترکی سے یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی میں ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرے۔

SHARE

LEAVE A REPLY