آج کل مُلک میں سترسالہ کرپشن کی روک تھام اور کرپشن کولگام دینے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں کرپٹ عناصر کا احتسابی عمل جاری ہے اور اِس حوالے سے عدلیہ اور نیب کا ادارہ سرگرمی سے متحرک ہے یہ ادارے جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ سب کے سا منے ہے یعنی کہ بہت سارے شکوک اور شبہات کے ساتھ اِن دِنوں میں مُلک میں جو کچھ بھی ہورہاہے اور آنے والے وقتوں میں مزید جوبھی کچھ ہوگا وہ بھی سب کے سا منے آجا ئے گا۔
بہر کیف، پھر بھی اِتنا کچھ ہو نے کے باوجود ابھی بہت کچھ ایسا بھی ہے…!! جو چُپکے چُپکے ہورہاہے؟؟ جس سے ایک غیر سیاسی اور سادہ اور عام پاکستا نی شہری بہت سے ایسے خدشات ،مخمصوں اور وسووں میں مبتلا ہوگیاہے جس کا یہ فوری جوا ب عدل اور احتساب کرنے والے اداروں سے چاہتاہے کیو ں کہ وہ یہ سمجھتا ہے؟ کہ آج چُپکے چُپکے حکمران، سیاستدان ، ادارے اور بیوروکریٹس سب ایک ہیں۔
اَب یہ ذمہ داری تو احتساب اور عدل کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ یہ ایک عام پاکستا نی شہری جِسے اگلے متوقعہ الیکشن 2018ءمیں اپنا سب سے اہم کردار ادا کرنا ہے اِس کے دماغ میں جنم لینے والے سوال اور سوالات کے جوابات کس طرح دیتے ہیں؟کس طرح اور کیا؟ اپنا موقف پیش کرکے غیر سیاسی پاکستا نی شہری اور معصوم ووٹرکو مطمئن کرتے ہیں اور اِسے آئندہ حقیقی محب الوطن، دیانتدار،مخلص اور بیباگ و نڈر قیادت کے چناو ¿ اور انتخا ب کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اپنا اعتماد اِس پر بحال کرتے ہیں ۔
بہرحال ،اِس میں کو ئی شک نہیںہے کہ آج عدلیہ اور احتساب کے کے ادارے کچھ بھی کررہے ہیں وہ حقائق اور شواہد کی روشنی میں اپنا کام کررہے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں اداکررہے ہیں تو وہیں کئی معاملات میں چُپکے چُپکے ایوانِ نمائندگان بھی شیرو شکر ہوگئے ہیں جیسے سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاملے میں پی پی پی اور پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں نوازشریف کے ساتھ ہمدردی اور درپردہ اپنی مکمل حمایت جاری رکھے ہو ئے ہیں اور عدلیہ کے اختیارات اور نوازشریف سے متعلق دوبارہ نااہلی کے معا ملے میں سب سیاسی جماعتیں نوازشریف کے ساتھ شا نہ بشا نہ کھڑی ہیں بس اتنا ہے کہ عوام کے سا منے سب اپنا یہ اصل چہرہ عیاں ہو نے سے چھپا رہے ہیں کیو ں کہ آج اگر اِنہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر ان کی سیاست کاکیا بنے گا؟
اگرچہ، یہ ٹھیک ہے کہ پانامالیکس کے حوالے سے آنے والی خبروں میں مُلک میں نوازشریف کی طرح اور بھی بہت سی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے نامزد اشخاص موجود ہیں اور بہت سی شخصیت ایسی بھی ہیں جنہوںنے دُہری شہریت اور کئی ممالک کے اقا مے بھی رکھے ہو ئے ہیں کرپٹ عناصر بھی بدرجہ اتم موجو د ہیں جیسے کسی سالوں سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری تو سرداران کرپٹ جا نے اور پہچا نے جا تے ہیں مگر کیا وجہ ہے؟ کہ اِنہیں چھوڑ کر ا بھی تک عدلیہ اور احتساب کے اداروں نے صرف نوازشریف اینڈ فیملی کو ، سنز آف شریف اوربرادرانِ شریف کو ہی احتساب کی رسی سے جکڑ رکھا ہے۔
جبکہ آصف علی زرداری سمیت دیگربھی ایسے لوگوں کی لمبی لسٹ موجود ہے جو کسی نہ کسی طرح مُلکی دولت پر ہاتھ صاف کرنے اور قومی خزا نے کو اپنے آباواجداد کی جاگیر سمجھ کر لوٹ مار کرنے اور مُلکی میگاپروجیکٹس پر کمیشن اور پرسنٹیج لینے اور وفاق و صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اپنے اللے تللے اور اپنے بینک کھاتوں میں ڈلوا نے کے حوالوں سے اپنی پہچان آپ رکھتے ہیں بھلا یہ کرپٹ ٹولہ ا ب تک کیو ں اعلیٰ عدلیہ اور احتسا ب کے اداروں سے بچا ہوا ہے؟
آج یہی بات ہے جو کچھ عام پاکستا نی اور غیرسیاسی شہری کو سمجھ نہیں آرہی ہے یعنی کہ عدلیہ کا نوازشریف کو بار بار نااہل قرار دیئے جا نے والا درست فیصلہ بھی عوام الناس میں مخمصے اور خدشات پیدا کئے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی اداروںکے کردار پر غیرسیاسی عام پاکستانی شہری سوا لیہ نشان لگا ئے ہوئے ہیں کہ اداروں کے یکطرفہ اقدامات سے دوبارہ نااہل قرار دیئے گئے اِ س صورتِ حال میں مجموعی طور پر نوازشریف کے ساتھ عوام کی ہمدردیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں کیو ں کہ جب تک ادارے کسی ایک فرد کے خلاف ہی ایکشن لیتے رہیں گے تو لا محالہ عوام الناس میں اُس شخص سے ہمدردیاں پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے حالانکہ عوام جا نتے ہیں کہ کرپٹ صرف نوازشریف ہی نہیں بلکہ آصف علی زرداری جیسے اور بہت سے ظاہر اور باطن کرپٹ لوگوں سے ایوان بھرہوا ہے مگر ایک نوازشریف اینڈفیملی کو ہی کو بار بارگھوما پھرا کر نااہل قرار دینا یہ نوازشریف کے حق میں بہتری اور اگلے متوقعہ الیکشن 2018ءکے لئے تاریخی جیت کا زینہ ثابت ہوگا۔
تا ہم آج اِس میں کو ئی دورا ئے نہیں کہ قا نون اور آئین کی رو سے نوازشریف جھوٹے اور بدیانت قرارپاچکے ہیں مگر ایک عام پاکستا نی تو یہ بات ابھی تک نہیں سمجھ پارہاہے، جِسے سمجھنا بہت ضروری ہے کہ نوازشریف اپنے اثاثے اور اقامہ چھپا نے اور جھوٹ اور بدیانتی کی وجہ سے مُلکی اعلیٰ عدلیہ سے نااہل قراردیئے جا چکے ہیں مگر افسوس ہے کہ یہ بس ابھی تک یہی سمجھ رہاہے کہ ادارے انتقامی کارروا ئی کررہے ہیں آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی اور عمران خان اور پی ٹی آئی والوں کو چھوڑ کر ایک نوازشریف اور ن لیگ والوں کوہی قومی ادارے احتساب کے نام پر نشا نہ بنا رہے ہیں۔
اِس منظر اور پس منظر میںاَب اگر مُلک میں اُوپر سے احتسا بی عمل شروع ہو ہی گیا ہے تو پھر اِس عمل کو چُپکے چُپکے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اِس میں مزید تیزی لا ئی جا ئے اور دھیرے دھیرے فیصلے کرنے کے بجا ئے ڈنکے کی چوٹ پر فیصلے کئے جا ئیں۔ تاہم اگرآج (عدلیہ اور نیت اور دیگر ظاہر و باطن خفیہ ) قومی ادارے واقعی مُلک اور قوم سے کرپٹ عناصر کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اِنہیں چا ہیے کہ اپنا یہ عمل سب کے لئے شروع کریں یعنی آج اگر احتسا بی عمل نوازشریف سے شروع ہوگیاہے تو پھر آصف علی زرداری سمیت دیگر اِدھر اُدھر کے(نئے پرا نے حال و ماضی کے سِول اور آمر حکمرانوں ،سیاستدانوں، ججز اوربیوروکریٹس) ہر قسم کے کرپٹ عناصر کا کڑا احتساب بھی عمل میں لایا جا ئے ورنہ قومی عدل اور احتساب کے اداروں پہ عوام الناس چُپکے چُپکے سوالیہ نشان لگا تے ہی رہیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY