ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں ایک لفظ احسان کواسکے بہت ہی جامع معنوں میں روشناس کرایا تھا۔ مگر اسلامی اصطلاح میں ہر جمعہ کے خطبے میں سننے کہ باوجود اس کے اصل مقصد تک ہم میں سے بہت کم لوگ پہونچ پاتے ہیں، صرف حسن اوراحسان تک محدود رہ جاتے ہیں۔ احسان کامرکب بنا کر بھی اردومیں استعمال کرتے رہے۔ مگر اس کی روح تک نہیں پہونچتے ؟ وہ ہے میرے نزدیک ہر ایک میں جو اس کی اپنی بہترین صلاحیتیں ہیں انہیں پورے طرح استعمال کرنا، جس کی مثالیں میں نے وہاں چند لفظوں کے ساتھ اس کو استعمال کرکے پیش کی تھیں۔ جوکہ اس لفظ کاصحیح استعمال اور اصل مفہوم ہے۔ جب ان معنوں میں ہم لے لیں تو اس لفظ کے ان معنوں تک ہم پہونچ سکتے ہیں جو کہ قرآن کا یہ لفظ ہم سے مطالبہ کرتا ہے اور ہرمومن کو اس سے مرصع دیکھنا چاہتا ہے۔ یاد رکھئیے کہ یہ اُس قادرِ کلام کا منتخب کردہ لفظ ہے جس کا ہوبہو ترجمہ انسان سے ممکن ہی نہیں ہے؟ اور ہمیشہ سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک سے زیادہ ا لفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں کیونکہ قرآن کا ہر لفظ قیامت تک کے لیے ہے۔
اس تمہید کے بعد آئیے اب ہم معاشرے کی پہلی اکائی کی طرف بڑھتے ہیں جو کہ پہلے انسان حضرت آدم(ع) سے بنی اور انہیں سے پہلی خاتون حضرت حوّاؓ کاوجود ہوا، اس طرح معاشرے کا پہلا یونٹ ،پہلی اکائی قائم ہوئی چونکہ یہ اللہ کی پسند تھی اس وقت کے معاشرے کے مطاطبق ان دونوں کا یقیناًبے مثال ہونا طے تھا اور وہ بے مثال ہونگے۔ مگر نہ تو قلم تھا نہ کاغذ نہ تاریخ تھی۔ لہذا جوا طلاع قرآن میں ہے وہیں تک ہماری معلومات محدود ہیں اور اسی تک ہمیں محدود رہنا چاہیئے۔ جس میں یہ بتاگیا کہ حضرت حوّ ؓ کوا ن کی دل بستگی کے لیے پیدا کیا گیا۔ ہمارے یہاں پہلے تویہ تھا کہ ماں باپ کی پسند اولاد کی پسند ہوتی تھی۔ اب یہ ہے لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے کو دیکھ اور پرکھ کر خود پسند کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن نے ایک کلیہ دیا ہوا ہے کہ بیوی کو محسنات میں سے تلاش کرو؟ اور بیوی کو بھی کہاہے کہ اپنے ہونے والے شوہر میں اچھے اوصاف تلاش کرے۔ اور قرآن کی ایک آیت میں یہ فرما کر مفہوم اور واضح کردیا ہے کہ“ زانی مرد زانی خواتین کے لیئے ہیں اور اچھے مرد اچھی عورتوں کے لیئے ہیں۔۔۔۔۔الخ ۔تو میاں کو بیوی کے انتخاب میں اور بیوی کو میاں کےانتخاب میں یہ معیار رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لئے اسلام میں ایک نظر دیکھ لینے کی اجازت تو ہے، مگر جو آج کی تہذیب ہے یعنی ڈیٹس اور فلرٹ وغیرہ کرنا اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس سے بیوی کا شوہر پر سے اور شوہر کا بیوی پر سے اعتماد اٹھ جاتاہے۔ اس سلسلہ میں ہم نے بہت اچھا طریقہ بنگال میں دیکھا کہ لڑکی اور لڑکے کو ملانے کے لئے کوئی معمر خاتوں بیٹھ جاتیں اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ لیتے تھے۔ مگر آج کے دور میں شادیاں ا نٹرنیٹ پر ہورہی ہیں۔ لہذا یہ طریقہ اختیار کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شادیوں میں طلاقوں کا تناسب روز بڑھتا جارہاہے۔ جبکہ ایک صدی پہلے تک یہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ جبکہ جو ملک جتناترقی یافتہ ہے وہاں طلاقوں کا تناسب اتنا ہی زیادہ ہے ۔ان روز روز کی شادی اور طلاقوں سے تنگ آکر انہوں نے اب یہ جھگڑا ہی ختم کردیا ہے اس کے بجائے قانون یہ بنادیا ہے کہ جو 12 مہینے تک ایک چھت کے نیچے رہیں اور ایک حلف نامہ دیدیں, تو ان دونوں کو وہی حقوق حاصل ہونگے جو میاں بیوی کو ہوتے ہیں۔ اور جب جی چاہیں وہ ایک دوسرے کوچھوڑ دیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
جبکہ اب مسلمانوں میں بھی طلاقوں کا تناسب بتدریج بڑ ھ رہا۔ وجہ کیا ہے ترقی یافتہ ملکوں کی نقالی اور پیر پریشر؟ کیونکہ ان کی ترجیحات یہ ہیں کہ پہلے عیش کرو اور بعد میں مناسب سمجھا تو اولاد ،ورنہ نہیں ۔ جبکہ اسلام نے جو ترجیحات بتائی تھیں ان میں دونوں کا مذہبی ہونا اور بااخلا ق ہونااولاد پیدا کرنا اور اس کی اچھی تربیت کرنا تھے۔ باقی شرائط بعد میں بعد میں آتی ہیں۔ یعنی دونوں میں ایمان اور حسنِ اخلاق ہونا بہت ضروری ہے۔ لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اب پہلی شرط حسنِ سیرت کے بجا ئے حسنِ صورت ہے اور دوسری بڑے گھر سے تعلق ہوناضرورری ہے۔ جبکہ اللہ کے نزدیک سب سے اچھا یااچھی وہ شخصیت ہے جس میں تقویٰ زیادہ ہو اور ساتھ میں اخلاق بھی اچھا ہو۔ توبات بنے تو کیسے بنے۔ ۔ اس لیے یہ تو ہونا ہی تھا جو ہورہا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے اس ا ندھا دھند تقلید کاجوکہ مذہب کی گرفت کمزور ہوجانے کی وجہ سے اب مسلمانوں میں بھی بڑھتی جارہی ہے۔ انکے اس تجربے کا نتیجہ دیکھ کرہمیں محتاط ہوجانا چایئے تھا، بجائے اس کے کہ اسی رو میں ہم بھی بہہ جائیں اور اسے ا ختیار کرلیں۔اور جسطرح انکی شرح پیدائش صفر ہوگئی ہے اوروہ مجبور ہوگئے ہیں کہ اپنے دروازے امیگریشن کے لیے کھول دیں۔ کیونکہ بوڑھے ہی بوڑھے ہیں جوکہ خرچ کرنے والے ہیں کمانے والے ترجیحات بدلنے کی وجہ سے پیدا ہی نہیں کئے چونکہ وہاں زیادہ فلاحی ریاستیں ہیں خرچہ ان کے اوپر روز بڑھ رہا ہے اگر یہ ہی لیل نہار رہے تو ہم بھی انہیں مسائل سے دوچار ہوں گے۔













