ہمارے ہاتھ معافی کے لئے جُڑے ہوئے ہیں اپنے لیڈروں اور ان کی شان میں قصیدے پڑھنے والوں کے سامنے ،خدا را جب علم نہیں تو ایسی ہستیوں کو جن پر ہمارا سب کچھ قُربان ،انہیں اپنی سیاسی تقریروں میں اپنی طاقت بڑھانے کو یا اپنی اہمیت جتانے کو مت لاؤ ،کہیں ہم خدا کے غضب کو دعوت نہ دے بیٹھیں اپنی جہالت اور کم علمی کے سبب ۔ ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ اہلِ بیت اور تمام صحابئہ کرام کا نام لیتے ہوئے بہت ادب اور احترام اور عقیدت لازم ہے نہ کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کسی کو بھی کسی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے ،،ہم ان باتوں کو جو جلسوں میں کی جارہی ہیں لکھنا نہیں چاہتے ،کیونکہ ہم خوف زدہ ہیں کہ جتنی دفعہ پروگراموں میں یہ باتیں دکھائی جاتی ہیں یا سُنائی جاتی ہیں کہیں ہم بھی ان کا حصہ تو نہیں بن جاتے ، معز اللہ ہم اپنے اللہ سے کروڑ بار معافی کے خواستگار ہیں کہ ہم ان باتوں پر بول نہیں سکتے ،بس جو سکت ہمارے پاس ہے اُسے ہی استعمال کر سکتے ہیں ۔ہمیں دُکھ ہے کہ کوئی مذہبی رہنما نہیں اُٹھتا کہ ایسی باتوں سے گُریز کرو ،کوئی نبی (ص)کا چاہنے والا نہیں کہتا کہ ان باتوں پر قد غن لگاؤ ۔کہاں ہیں ہم ، کدہر کھڑے ہیں کیا سب کچھ جائز ہے ؟؟
ہم سب کو ہی توبہ کرنی چاہئے اور اُس وقت سے پناہ مانگنی چاہئے جب بُرے بھلے کی تمیز اُٹھ جائیگی جیسا کہ ہمارے ملک میں کیا جارہا ہے ۔صرف اپنی پارسائی جتانے کو ۔آپ اپنے حق میں بات کریں مگر خدا را خدا را اُن ہستیوں کا نام بیچ میں نہ لائیں جن کے پاؤں کی خاک بھی ہم سے لاکھوں گُنا بہترہے ،ہم جھوٹے ، مکار ،بے ایمان لوٹنے والے ،مُکرنے والے ،غلط بیانی کرنے والے کیا ہم کہیں بھی اس قابل ہیں کہ اپنی مشابہت اُن پاک ہستیوں سےکہیں دکھا سکیں نعوزُ باللہ
آج پوری قوم تئیس مارچ منا رہی ہے ۔ایک نئے عزم اور جوش کے ساتھ کہ ہم سب ایک نئے ماحول اور ایک نئی روش پر چلنے کی طرف گامزن ہیں ،بس قائم رہنے کی بات ہے اگر ہم نے ان تبدیلیوں کو احسن طریقے پر اپنا لیا تو وارے کے نیارے ہو جائینگے ،اور اگر نہیں تو ہم اُس دلدل میں جاپھنسینگے جہاں سے نکلنا دشوار ہی نہیں ناممکن ہو جائیگا ۔عدلیہ نے اپنے اوپر جو زمے داریاں لے لی ہیں ہماری دعا ہے کہ وہ سُر خُرو ہو کر ان سے نکلے گی۔ بڑی مدت بعد عدلیہ کہیں نظر اآئی ہے ۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عوامی معاملات میں اگر کسی نے دلچسپی دکھائی ہے تو وہ ہیں ہمارے چیف جسٹِس ،ہماری دعا ہے کہ وہ اسی طرح عوام کی آواز کو سنتے رہیں اور یہ یومِ پاکستان پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے ایک ایسا دن ہو جائے جو ہماری خوشیوں اور ہماری ترقی پر دلالت کرے ۔
آج شکر پڑیاں میں پاکستانی افواج بحریہ اور باقی تمام ادروں کا روح پرور منظر دیکھا جس میں دو برادر ملک اُردن اور متحدہ عرب امارات کے دستے بھی شامل تھے ۔اپنے فوجی جوانوں ،بحریہ کے جوانوں اور باقی تمام دستوں کو جو اس میں شامل تھے دیکھ کر لگا کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمارے یہ ادارے جو ملک کی بقاء کے لئے دن رات شھادتیں دیتے اور اپنے لہو سے وطن کی مٹی کو محفوظ کرتے ہیں کس قدر شان دار اور با وقار ہیں ۔ کاش ہم سب ہھی اپنی زندگیوں اور ماحول میں یہ ہی جزبہ ، جوش اور نظم و ضبط پیدا کر لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم کسی بھی سپر پاور یا طاقت ور سے پیچھے ہوں ۔ہم ان تمام اداروں کے لئے دعا کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح جوش اور جزبے سے اپنے وطن کی شان بڑھاتے رہیں ۔اور وطن کی مٹٰ کو خوشبوؤں سے مہکاتے رہیں ۔آمین
ہم زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں ہمیشہ ہی اپنے ماضی سے سیکھتی اور سبق لیتی ہیں ۔ہم نے آج کے حکمرانوں کو صرف پھلتے پھولتے دیکھا ہے ملک کو دن بہ دن نیچے ہوتے اور قرضوں میں ڈوبتے دیکھا ہے اس لئے آج کا دن اس عہد کا بھی تقاضہ کرتا ہے کہ ہر پاکستانی یہ عہد کرے کہ ہم کسی بھی بے ایمان اور جھوٹے ،مکار کو دھوکہ دینے والے کو آگے نہیں آنے دیں گے چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ۔ہر ادارے کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم اپنے ملک اور عوام کی ترقی اور فلاح کے لئے کام کرینگے ۔ہم میں کوئی کمی نہیں ہے ،نا ہی ہم کمزور ہیں ۔ایمان کی طاقت ہر پاکستانی میں ہے ضمیر سب کے زندہ ہیں، بس جگانے کی بات ہے، تو یہ قومی دِن جو ہم بہت جوش و خروش سے مناتے ہیں اب ان میں ہمیں اپنے کردار بھی دیکھنے چاہئیں یہ بھی محاسبہ کرنا چاہئے کہ اب تک کَیا کِیا ۔اور اب کیا کرنا ہے ۔عوامی طاقت بہت بڑی طاوت ہے جو اگر خود کو بدلنے اور اچھائی کا ساتھ دینے کا عہد کر لے تو ہر بندہ اپنی جگہ ایک فولاد ہے کہ نہ برائی کرونگا نہ کرنے دونگا ،
ہمارے پیسوں پر جس طرح ہمارے بڑے آج بھی عیش کر رہے ہیں اور کوئی پوچھ نہیں ہے یہ بھی ایک طُرفہ تماشہ ہی ہے ۔نا ہمارے ملک میں نااہلی شرمندہ کرتی ہے نہ مقد مے کوئی کمی کرتے ہیں نہ الزام لگنے کوئی برائی ہے نہ جھوٹ اور غلط بیانی کسی پکڑ کا حصہ ہے بکلکہ ہر ملزم سینہ تان کر کھڑا ہے کہ روک سکو تو روک لو ؟؟ تو ضروری ہے کہ اب روکنے والے ہمت پکڑیں اور ہر اُس برائی کو روک لیں جس نے جڑیں کمزور کر دیں میرے پاک وطن کی ،
یہ دن ہمیں ایک نیا جوش ایک نئی سوچ عطا کرتے ہیں کہ جو کچھ نہیں کر سکے اب کرلو ۔۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم سب ہی متحد ہو کر ہر اُس برائی کا مقابلہ کریں جو ہمیں اس نہج تک لے آئی ہے کہ ہم جھوٹ اور دروغ گوئی کا ساتھ دینے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہماری سوچ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ ہم یہ بھی سُنتے ہیں کہ اگر روپیہ کھایا تو اٹھنی لگائی بھی ۔بھئی یہ روپیہ کھایا کیوں ؟؟ اور اگر اٹھنی لگائی تو ہماری ہی تو تھی اور وہ روپیہ بھی ہمارا ہی تھا امانت تھی ہماری جو کھائی گئی اور جب حساب لو تو کہتے ہیں تمہیں کیا ؟۔ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اپنی باگ کیسے دے دیں ،جو سامنے ہیں کہ دھوکہ دیا ِ،
ہماری تو دعا ہے کہ کاش آئیندہ جو بھی لیڈر ہمارے ملک میں آئیں وہ کرپٹ نہ ہوں ملک کو لوٹنے والے نہ ہوں خود کھانے اور لوگوں کو بھوکا رکھنے والے نہ ہوں ،اپنے بینک بھرنے اور لوگوں کے بینک خالی کرنے والے نہ ہوں ،ا[پنی جائیدادیں بنانے اور دوسروں کی لوٹنے والے نہ ہوں ،اپنی جاگیریں بنانے اور دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے والے نہ ہوں ،اپنی دولت بچانے اور ملک کی دولت گنوانے والے نہ ہوں ۔
اقتدار میں آتے ہی کھرب پتی بن جانے والے نہ ہوں ۔غریبوں کو بے حال کر کے اپنے حالات سنوارنے والے نہ ہوں ،نلکہ عوام دوست اور ملک دوست لوگ ہوں ۔عقلمند اور زیرک لوگ ہوں وہ نئی نسل ہو جس کو دیکھ کر ہم فخریہ کہہ سکیں یہ ہمارے ہیں یہ پاکستانی ہیں ۔یہ پکساتن کا فخر ہیں اور ہم یقین دلاتے ہیں اگر ہم سب متحد ہو جائیں ہر برائی اور برے کے خلاف تو یہ روشن دن ہم روز دیکھ سکینگے جب اسپتالوں کے افتتاح ہونگے جب یونیورسٹٰاں بنینگی ۔،جب اسکول کُھلینگے ،جب مزدور روزگار پر خوشی خوشی جائیگا ،۔جب کھلتے چہرے معصوم پھول بجائے کچرا چننے کے اسکول؛ جائیں گے۔وہ دن ہو گا تئیس مارچ کا اصل دن میرے ملک کی شان اور آن کا دن ۔ ہماری دعا ہے کہ جس طرح یہ تبدیلی ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑے بڑوں کی چیخیں نکل رہی ہیں اسی طرح ہم یہ دن بھی ایکھیں گے جن کے ہم خواہشمند ہیں انشاء اللہ
پاکستان زندہ باد پاکستانی عوام پائیندہ باد













