قومی ورثہ لاہور ریڈیو اسٹیشن کے سنٹرل پروڈکشن کے سربراہ ڈپٹی کنٹرولر جواں سال سید شہوار حیدردل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کر گئے
انا اللہ و انا الیہہ راجعون
اُن کی نمازِ جنازہ ہفتہ 7 اپریل صبح 10:30 پر حیدر مسجد حیدر روڈ اسلام پورہ (سنت نگر) میں ادا کی جائےگی۔
مرحوم شہوار حیدر لاہور کے علاقے کرشن نگر کے مکین تھے اور اپنے محلے کی طرح اپنے دفتر میں بھی اپنے مزاج کی وجہ سے ہر دل عزیز تھے انکے عملے میں ہر سطح کا آدمی انکی تعریف کرتا تھا

شہوار حیدر نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول خزانہ گیٹ لاہور سے حاصل کی اور ماسٹر کی ڈگری جامعہ پنجاب سے حاصل کی جسکے بعد انیس سو ستاسی میں وہ ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کے طور پر ملازم ہو گئے اور ابتدائی تربیت اسلام آباد میں پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈیمی میں حاصل کی جہاں انکے اساتذہ میں صفدر ھمدانی ،باسط سلیم اور ضمیر صدیقی جیسے لوگ شامل تھے

انکی ملازمت کا زیادہ حصہ لاہور مرکز پر گزرا اور یہیں وہ ڈپٹی کنٹرولر ہونے کے بعد سی پی یو کے سربراہ بنے اور موسیقی کی ریکارڈنگ کی تربیت انہیں جناب خالد اصغر نے دی
انیس سو ستاسی میں پروڈیوسر بننے والے احباب میں انکے ساتھ نزاکت شکیلہ، جاوید اختر، کوثر ثمرین، آصف کھیتران، محمد عسکری، جاوید باجوہ، فیاض کیانی، شگفتہ آفتاب،حلیم مینگل،خلیل چنا،عفت جبار،ظفر اللہ، جاوید اعظم اور دوسرے دوست شامل تھے اور وہ اپنی طبیعت کی وجہ سے پنے سب دوستوں میں مقبول تھے
قومی ورثہ لاہور ریڈیو کی اسٹیشن ڈائریکٹر نزاکت شکیلہ، اکیڈیمی کے انکے استاد صفدر ھمدانی، انکے موسیقی کے استاد خالد اصغر دوسرے تمام دوستوں نے انکی ناگہانی اور اچانک موت پر انتہائی دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے اور مغفرت کی دعا کی ہے
عالمی اخبار کی مجلس ادارت نے بھی شہوار حیدر کے انتقال پر افسوس اور صدمے کا اظہار کی ہے












