سانحہ پمز، اسلام آباد پولیس کی تیار رپورٹ کی کاپی جیو نیوز کو موصول
اسلام آباد پولیس کی سانحہ پمز اسپتال سے متعلق تیار کی گئی رپورٹ کی کاپی جیو نیوز کو موصول ہوگئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپتال ایمرجنسی میں آتشزدگی کی اطلاع وائر لیس کنٹرول پر ملی، اے ایس آئی محمد عارف موقع پر پہنچے تو ریسکیو آپریشن جاری تھا۔
رپورٹ کے مطابق آتشزدگی واقعہ میں گائنی وارڈ کی چلڈرن ایمرجنسی میں 14 بچے جاں بحق ہوئے، جن کی باڈیز پمز اسپتال کی مارچری منتقل کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ایم ایل او نے جاں بحق ہونے والے بچوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری کیے،کارڈ وصولی کے بعد بچوں کی لاشیں ورثا کے حوالے کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق کرائم سین یونٹ نے وقوعہ سےحاصل مٹیریل کے 3 پارسل فارنزک کےلیے پولیس کو دیے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سانحہ پمز: بچے ناکافی اقدامات سے جاں بحق ہوئے، انکوائری رپورٹ میں پمز انتظامیہ کی ناکامی ثابت
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف کی بنائی گئی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ جیو نیوز نے حاصل کرلی۔
انکوائری رپورٹ میں نرسری میں آگ لگنے کا سبب برقی خرابی کو قرار دیا گیا ہے جب کہ کمیٹی نے پمز انتظامیہ کی ناکامی قرار دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے سی نمبر 2 کی بجلی کی سپلائی کیبل سے آگ لگنے کا قوی امکان ہے، تخریب کاری یا آئیسکو فالٹ کے شواہد نہیں ملے جب کہ آکسیجن لیکیج یا انکیوبیٹر سےآگ لگنے کا بھی ثبوت نہیں ملا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ آگ لگنے کے بعد فرنٹ لائن عملے نے ابتدائی لمحات میں فوری کارروائی کی، کسی شخص کے خلاف مجرمانہ جرم ثابت نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق نرسری میں خودکارد ھویں کا پتا لگانے اور الارم کامؤثر نظام نہیں تھا، 6 جولائی کے نرسنگ ہاسٹل میں آگ نے بھی خامیاں ظاہر کی تھیں تاہم سابقہ فائر سیفٹی وارننگز پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق نرسری میں 15 نومولود زیرعلاج تھے، حادثے میں 14 جاں بحق ہوئے جب کہ نرسری میں گنجائش سے زیادہ نومولود زیرعلاج تھے، 10 بیڈ کے یونٹ میں 15 بچے زیر علاج تھے، نومولود حفاظتی نظام کی ناکامی نہیں بلکہ متعدد کمزور اقدامات کے باعث جاں بحق ہوئے۔
کمیٹی نے رپورٹ میں برقی تنصیب، ایمرجنسی راستے اور وارننگز پر مزید تحقیقات کی سفارش کی جب کہ پمز میں فوری فائر، لائف سیفٹی اور الیکٹریکل آڈٹ کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں نومولودوں کے لیے خصوصی ایمرجنسی ایویکیوایشن ایس او پیز بنانے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ فائر ڈٹیکشن، الارم اور ایگزٹ سسٹم فوری فعال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پمز اسپتال میں اصلاحات کیلئے 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں اصلاحات کے لیے 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی میں سرکاری اور نجی شعبےکے نامور ماہرین صحت شامل ہیں، خصوصی کمیٹی پمز اسپتال کے انتظامی امور کا جائزہ لےگی، کمیٹی پمز اسپتال کے امور چلانے سے متعلق سفارشات پیش کرےگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز اصلاحات کمیٹی اپنی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرےگی، وزیراعظم کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں پمز سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ پمز اسپتال کے امور چلانے کے لیے بورڈ آف گورنرز تشکیل دینےکا فیصلہ کیا گیا ہے، بورڈ آف گورنرز میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پمز میں آگ لگنے سے 14 نوزائیدہ بچوں کی المناک اموات ہوئی تھی، سانحہ پمز کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل کیےجاچکے ہیں، معطل افسران کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی واقعہ میں اپنی جان پر کھیل کر نومولود کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات کی اور ان کی ہمت و جذبے کو سراہا۔
شہباز شریف نے نرس رضیہ نورین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 23 مارچ کو تمغۂ خدمت دینے کا اعلان کیا۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا انعام بھی دیا۔
شہباز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ‘آپ نے جس طرح ہمت، خدا خوفی اور ایک عظیم مقصد کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک بچے کی جان بچائی اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائیں گے’۔
وزیر اعظم نے کہا ‘پوری قوم کو آپ کی اس جرأت اور ہمت پر فخر ہے اور پوری قوم آپ کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے’۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سانحہ پمز کے ذمہ داروں کیخلاف اگلے 2 سے 3 دن میں مقدمات درج ہونا شروع ہوں گے: طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیربرائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نےکہا ہےکہ سانحہ پمز کے ذمہ داروں کیخلاف اگلے 2 سے 3 دن میں مقدمات درج ہونا شروع ہوں گے۔
طارق فضل چوہدری نے جیو نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 لوگوں کو معطل کیا گیا، کمیٹی اگلے 2 دن میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کرائے گی، رپورٹ میں ان 8 افراد کا تعین ہوگا کہ کس کی کتنی غلطی یا غفلت ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا اس کے بعد انفرادی طورپر ان8 افراد کےخلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نےکہا پولیس بھی اپنی تفتیش کررہی ہے، جلد معلومات سامنے آجائیں گی۔
انہوں نے کہا ہمارا لاء ڈپارٹمنٹ بھی اس پر کام کررہا ہے، 2 سے3 دن میں پولیس فوجداری قوانین کے تحت پرچے درج کرنا شروع کردے گی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حکومت نے سانحہ پمز کی پارلیمانی تحقیقات کے لیے تمام جماعتوں سے نمائندگی کے لیے نام مانگ لیے۔
قومی اسمبلی نے جمعہ کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی قرار داد منظور کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ حکومت نے تمام جماعتوں سے کمیٹی میں نمائندگی کےلیے نام مانگ لیے ہیں، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق نام ملتے ہی پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیں گے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہونے والی جان لیوا آتشزدگی کے چند ہی گھنٹوں میں وزیراعظم شہباز شریف کو تحریری طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا، تاہم وزیراعظم نے استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے انہیں انکوائری مکمل ہونے تک عہدے پر برقرار رہنے کی ہدایت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر نے 26 اگست کو پیش آنے والے سانحے (جس میں پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے) کے فوراً بعد وزیراعظم آفس کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، استعفیٰ تحریری طور پر پیش کیا گیا اور واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو اس سے آگاہ کر دیا گیا۔ تاہم، وزیراعظم شہباز شریف نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کے بجائے وزیر صحت کو ہدایت کی کہ وہ سانحے کی وجوہات معلوم ہونے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کریں۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر صحت کو یہ بھی کہا گیا کہ انکوائری جاری رہنے کے دوران استعفے کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔ یہ اطلاع اس لیے اہم ہے کہ حکومت نے سانحے کے فوراً بعد وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کیخلاف کارروائی کی، جبکہ مصطفیٰ کمال بدستور اپنے عہدے پر فائز رہے اور بعد ازاں پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے حکومت کے احتساب کے عزم کا دفاع بھی کیا۔
رابطہ کرنے پر مصطفیٰ کمال نے اس سوال پر تبصرے کی درخواست کے پیغامات کا جواب نہیں دیا کہ آیا انہوں نے استعفیٰ پیش کیا تھا اور آیا وزیراعظم نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم سے وابستہ اعلیٰ حکام سے بھی ان کا مؤقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے کسی استعفے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
وزیر صحت اس کے بعد سے پمز سانحے کی انکوائری کی عوامی طور پر حمایت کرتے رہے ہیں اور بارہا کہتے رہے ہیں کہ ذمہ دار افراد کو نہیں بخشا جائے گا۔ سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو ایسا ’’چند روز کیلئے جاری رہنے والی قسط‘‘ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور انہوں نے احتساب کے ساتھ صحت کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم پہلے ہی عبوری انکوائری رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد پمز کے اعلیٰ حکام کیخلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چلڈرن اسپتال اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے اعلیٰ حکام سمیت 8؍ افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ ان کیخلاف فوجداری کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی۔
عبوری رپورٹ میں اسپتال کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری کیلئے آگ لگنے اور انخلاء سے متعلق تفصیلی اور مناسب طور پر مشق شدہ طریقۂ کار کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں آگ لگنے کے درست مقام اور وجہ کا تعین کرنے کیلئے مزید تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کی بھی سفارش کی گئی۔ وزیر صحت کے مبینہ استعفے نے اس طرح سانحے سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار میں ایک اور پہلو کا اضافہ کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر سانحے میں ہلاکتوں کے فوراً بعد عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار تھے، تاہم وزیراعظم نے ذمہ داری کا تعین جاری انکوائری کے ذریعے ہونے تک انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، سیکریٹری صحت کو مبینہ طور پر معلومات کے بغیر اور قبل از وقت ہٹا دیا گیا۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کر کےکارروائی کرنےکی منظوری دے دی۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز واقعے پر لاہور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔
اعلامیےکے مطابق وزیر اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔
وزیر اعظم نےکمیٹی کی نشاندہی پر 8 افرادکو فوری معطل کرکےکارروائی کرنےکی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کی کمیٹی کی نشاندہی پر ذمہ داران کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
اعلامیےکے مطابق ان 8 افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر شامل ہیں۔ سکیورٹی پر مامور کمپنی اور عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دی گئی ہے،معطل ہونے والوں میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی عبدالرحمان، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور سینئر رجسٹرار بھی معطل ہونے والوں میں شامل ہیں۔
وزیراعظم آفس کےمطابق متاثرہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈکو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے ان افراد کے خلاف بلا امتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
پمز واقعے میں بچےکو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینےکی منظوری دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنےکی ہدایت کی ہے۔وزیر اعظم نے ہٹائے گئے افراد کی جگہ نئے افراد کی فوری اور ایک ساتھ تعیناتی کی ہدایت بھی کی ہے۔
رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر آویزاں کر دی جائےگی۔
آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسزکو کال گئی، ابتدائی تحقیقات
اعلامیے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں ہنگامی صورتحال سے متعلق تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔ پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف 2 ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ پمز واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا، دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے، آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف 2 منٹ کا وقت لگا، ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے ایک بچےکی جان بچائی، آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی۔ پمز اسپتال میں پہلا ایمرجنسی ریسپانس کال کے 15 منٹ بعد پہنچا۔
پمز واقعےکے ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچایا جائےگا، وزیراعظم
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، پمز واقعےکے ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچایا جائےگا، معصوم بچوں کی موت ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں، پمز واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائےگی۔













